ون بروز جمعہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال کی اپیل  کشمیر کی وحدت ،اجتماعت اور انفرادیت کو توڑنے کی کسی کو اجازت نہیں /مزاحمتی قیادت

سرینگر / 9جون کو 18سالہ نوجوان کی ہلاکت اور خصوصی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے آزادی پسند قیادت،کارکنوں اور تاجروںکوحراساں کرنے کے خلاف ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے مزاحمتی قیادت نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ عام شہریوںکی ہلاکتوں کے خلاف نماز جمعہ کے بعد پُر امن احتجاجی مظاہرے کریں جبکہ اننت ناگ ، پلوامہ اور کولگا م اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگ شوپیاں کا رخ کر کے پولیس و فورسز کے ہاتھوں جاں بحق کئے گئے نوجوا ن کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں ۔ اے پی آئی کو ارسال کئے گئے بیان کے مطابق 9جون کو بروزجمعہ کو 18سالہ نوجوان کی مبینہ طور پر پولیس و فورسز کے ہاتھوں ہلاکت ،خصوصی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی جانب سے آزادی پسند قیادت ،تاجروں اور سیاسی کارکنوں کو حراساں کرنے کے خلاف ایک روزہ ہڑتا ل کی کال دیتے ہوئے مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ،مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ریاست کی وحدت اور اجتماعیت کو توڑنے والوں کے منصوبے ترتیب دینے والوں کے خلاف اپنی برہمی کا اظہار کر کے اس طرح کی کارروائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ۔ 18سالہ نوجوان کی ہلاکت کو بیانک قتل سے تعبیر کرتے ہوئے مزاحمتی قیادت نے کہا کہ جہاں ایک طرف ریاست خاصکر وادی کشمیر کو فوجی چھاونی میں تبدیل میں کیا گیا وہی نوجوان نسل کو صف ہستی سے مٹانے کی کارروائیاں شدو مد سے انجام دی جا رہی ہیں ۔مزاحمتی قیادت نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ 9جون بروز جمعہ کو ہمہ گیر ہڑتال کر کے دنیا پر یہ واضح کر دیں کہ بھارت نہتے اور مظلوم عوام کو اپنے پیدائشی حق سے دور رکھنے کیلئے ہتھکنڈے آزما کر نسل کشی پر اتر آیا ہے اور پچھلے ایک سال سے پولیس و فورسز کو قتل و غارت گری ، آگ و آہن کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔

Comments are closed.