نا مساعد اور غیر یقینی صورتحال نے ریاست کی اقتصادیات کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا  لوگ گوں نا گوں مشکلات سے دوچار ، سیاسی پارٹیاں دکانیں چمکانیں میں مصروف

سرینگر/اے پی آئی/ غیر یقینی اور نا مسا عدحا لات نے ریا ست کی اقتصا دی حا لات کو تبا ہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ،سیاحتی شعبہ ٹھپ، تعمیرو ترقی کا کئی نام و نشان نہیں، بے روز گاری اور بیکاری میں بے پنا ہ اضافہ ہوا ہے، سرکا ر عوام کو راحت پہنچا نے اور مسا ئل کا ازا لہ کرنے کا یقین دلاتے دلاتے تھک نہیں رہی ہے، حزب اختلاف سے وابستہ پارٹیو ںکے لیڈران سر کار کے کاموں میں نون میں نکتہ نکال کر مو جو دہ حالات کو مزید ابتر بنانے کا کو ئی مو قع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی ہے اور کوئی بھی پارٹی چا ہے وہ حز ب اقتدار ہو یا حزب اختلاف ریاست خاص کر وادی کو اس دلدل سے با ہر نکانے کے لئے سنجیدہ نہیں بلکہ بیا نات کی مالا جپ کر سیاسی دکانوں کو چمکانے میں ایک منٹ بھی ضا ئع نہیں کر رہی ہے۔ اے پی آئی کے مطا بق کشمیر کی سیاست کا ہمیشہ سے یہ ا لمیہ رہا ہے کہ یہاں کی سیاسی پار ٹیوں نے سا دہ لوگوں کو سبز باغ دکھا کر دھو کہ اورفریب دینے میں کو ئی کسر باقی نہیں چھوڑ دی ہے ۔ تا ریخ کے پس منظر میں جائے تویہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس قوم کو ہمیشہ رہبروں نے لوٹا ہے تین دہائیا ںقبل کشمیر کے مسئلے کو حل کرا نے کیلئے مجبور ہو کر نو جوانوں نے بندوق کا سہارا لیا ،بندوق منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی اس سادہ قوم کو پھر یہ لگا کہ ان کے مسیح آ گیا ہے اب انہیں نہ گھٹ گھٹ کے مرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی پیچھے رہنے کی کو شش کرنی چا ہیے، بندوق کے مقا بلے کیلئے ٹینک ،بختر بند گاڑیاں جدید اسلحہ وادی کشمیر وارد کر کے اس قوم کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا آغاز شروع کر دیاگیا، 25برسوں سے 9436افراد کو مبینہ طور پر گر فتار کر کے لا پتہ کر دیا گیا اور اس مدت کے دوران 97890افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔یہی پر بس نہیں ہوا 7278افراد کو گر فتار کرنے کے بعد ابدی نیند سلا دیاگیا تیس سالہ نامسائد حالات نے کشمیر و ادی کو 23792بیوائیاں پیدا کی اور ااس مدت کے دوران108655یتیموں کے فوج بھی جمع ہوئی جب کہ ان تین دہا ئیوں کے دوران 139615افراد تشدد کے شکار ہوئے اور اسی مدت کے دوران آبرو ریزی کے 10828واقعات رونما ہو ئے جبکہ تین دہائیوں  کے دوران 107740عمارتوں کو تباہ و بر باد کر دیا گیا۔غیر یقینی اور نا مسائد حالات نے ریاست خاص کر وادی کشمیر کو تبا ہی کے ایک ایسی دلدل میں پہنچا دیا جہاں سے اس کا با ہر نکلنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔وادی میں موجود تمام سیاسی پار ٹیاں اس بات سے با خبر ہے کہ اقتصادی لحاظ سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے سیاحتی شعبہ پوری طرح سے ٹھپ ہو چکا ہے۔ تعمیرو ترقی کا کئی نام و نشان نہیں دکھائی دے رہا ہے، بے کاری اوربے روز گاری میں بے تحا شہ اضافہ ہوا ہے لوگ اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کر رہے ہے سر کار کی جانب سے عوام کو بنیادی سہو لیات اور مشکلات کا ازالہ کرنے کے ضمن میں بیانات کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے حزب اختلاف کی جانب سے حکو مت کو کو سنے کا نون میں نکتہ نکالنے کا کوئی بھی مو قع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جا رہا ہے ۔سیاسی پار ٹیاں ریاست خاص کر وادی کشمیر کو دلدل سے با ہر نکالنے کیلئے کوئی تجو یز سامنے نہیں لا رہے ہے بلکہ اپنی سیاسی دکانوں کو چمکانے کا کو ئی بھی مو قع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے ہے سیاسی پارٹیوں کی اس اچھل کود نے ہمیشہ اس قوم کی نیا کو ہی ڈھبودیا اور اس دھر تی کے رہنے والے واسیوںکو ہمیشہ اس کی سزا بھگتنی پڑی۔

Comments are closed.