جموں و کشمیر میں جامع او رمساوی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے مسلسل کوششیں جاری / سکینہ اِیتو

سری نگر/08مئی

وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم محکمہ جات سکینہ اِیتونے آج ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر بھر میں تعلیم، صحت اور سماجی بہبود محکموں کی جانب سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دورانِ میٹنگ وزیر موصوفہ نے محکمہ وار تفصیلی جائزہ لیا اور منصوبوں کی نگرانی کے طریقہ¿ کار، فنڈز کے اِستعمال اور بین محکمہ جاتی ہم آہنگی کا تجزیہ کیا تاکہ جموں و کشمیر میں ترقیاتی اقدامات کا مو¿ثر عمل در آمد یقینی بنایا جا سکے۔
اُنہوں نے محکمہ تعلیم کے منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے سکولی عمارتوں کی تعمیر و اَپ گریڈیشن، سمارٹ کلاس رومز کے قیام، لیبارٹری اور لائبریری سہولیات میں اضافے اور تعلیمی اِداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ سکولوں اور کالجوں میں معیاری بنیادی ڈھانچہ کو یقینی بنائیں تاکہ طلبا¿ کوسیکھنے کا بہتر اور سازگار ماحول مل سکے۔
وزیرتعلیم نے دیہی اور دُور دراز علاقوں میں جدید تعلیمی سہولیات کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا اور حکام کو زیر اِلتوا¿ کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے کہا کہ ”ڈیجیٹل لرننگ اِنفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور تعلیمی اِداروں میں مناسب بنیادی سہولیات کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔“
اُنہوں نے محکمہ صحت کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے ہسپتالوں کے بنیادی ڈھانچے، طبی سہولیات کی اَپ گریڈیشن اور صحت خدمات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے سے متعلق جاری کاموں کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے بالخصوص دُور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو قابل رسائی اور سستی صحت خدمات فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
سکینہ اِیتو نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ صحت سے متعلق منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور تمام طبی اداروں میں ضروری طبی آلات، اَدویات اور اَفرادی قوت کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ اُنہوں نے اَفسران کو یہ بھی کہا کہ ہسپتالوں میں لفٹوں، آکسیجن پلانٹوں، عوامی سہولیات اور دیگر امور کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور ایک ہفتے کے اندر اَپنی رِپورٹ پیش کرے۔
اُنہوں نے سماجی بہبود شعبے کے بارے میں اَفسران کو ہدایت دی کہ تمام اہل اِستفادہ کنندگان سماجی بہبود کی مختلف سکیموں کے تحت شامل ہوں اور عوامی بیداری مہمات چلائی جائیں تاکہ لوگ اَپنی فلاح و بہبود اور بااِختیار بنانے کے لئے دستیاب حکومتی اقدامات سے پوری طرح آگاہ ہو سکیں۔

Comments are closed.