پولیس گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کی موت کا معمہ

لواحقین کا احتجاج ،ملوث اہلکار کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ

سری نگر:۲۸،مئی:/ چھتہ بل سرینگر میں احتجاجی مظاہروں کے دروان پولیس گاڑی کی زد میں آکر جاں بحق ہوئے نوجوان کے لواحقین ورشتہ داروں نے پیر کے روز احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملوث پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے ۔کے این این کے مطابق عادل احمد یڈو نامی نوجوان کے لواحقین ورشتہ دار پیر کے روز پریس انکلیو میں نمودار ہوئے ،جہاں انہوں نے پولیس کے خلاف احتجاج کیا ۔عادل چھتہ بل میں احتجاجی مظاہروں کو دوران پولیس گاڑی کی زد میں آکر جاں بحق ہو اتھا ۔احتجاجی مظاہرین نے بتایا کہ احتجاج کے دوران اُنکے بیٹے کو جان بوجھ گاڑی کے نیچے کچل کر ابدی نیند سلا دیا ۔یہ واقعہ5مئی کو چھتہ بل سرینگر میں انکاؤنٹر مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آ یا تھا ۔ نمائند ے مطابق عادل کے لواحقین اور رشتہ دار پریس انکلیوکے باہر جمع ہوئے جہاں انہوں نے اُس پولیس ڈرائیو ر کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ،جس نے عادل بقول انکے جان بوجھ کر گاڑی کے نیچے کچل ڈالا۔ احتجاجی مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’’ ہم کیا چاہتے انصاف۔۔۔ملوثین کو سزا دو ‘‘کے نعرے درج تھے ۔پانچ مئی کو شہر میں جب یہ خبر پھیلی کہ چھتہ بل سرینگر میں جنگجوؤں اور پولیس وفورسز کے درمیان انکاؤنٹر شروع ،تو نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں ،جنہوں نے انکاؤنٹر مخالف مظاہرے کئے اور فورسز پر پتھراؤ کیا ۔اس دوران مشتعل مظاہرین کو تتربتر کرنے کیلئے پولیس وفورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی جبکہ پولیس کی ایک گاڑی نے تعاقب کے دوران عادل کو ٹکر ماری جسکے نتیجے میں اُسکی موت ہوگئی ۔تاہم اس واقعہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈ یو وائر ل ہوا ،جس نے ہر ایک کو دہلا دیا ۔ڈی جی پی نے کہا تھا کہ یہ ایک حادثہ تھا ۔

Comments are closed.