کاکہ پورہ پلوامہ میں اتوارکورات دیرگئے فوجی کیمپ پرحملہ:گولیاں لگنے سے فوجی اہلکار اورشہری ازجان
رمضان سیزفائرکے بیچ پہلی شہری ہلاک
معصوم بلال کی نمازجنازہ میں جم غفیر : میت پرپھولوں ومٹھائیوں کی برسات :پلوامہ میں انٹرنیٹ سروس منقطع
پلوامہ:۲۸،مئی:کے این این/ جموں وکشمیرمیں یکم ماہ صیام سے جاری جنگ بندی کے11ویں روزجنوبی ضلع پلوامہ کے کاکہ پورہ علاقہ میں واقع فوج کی50آرآرکے کیمپ پررات دیرگئے جنگجوؤں کی جانب سے کئے گئے حملے کے دوران ایک فوجی اورایک عام شہری گولیاں لگنے سے شدیدزخمی ہوجانے کے بعددم توڑبیٹھے ،اوراس طرح سے رمضان سیزفائرکے چلتے پہلی شہری ہلاکت ہوئی اوراس دوران پہلافوجی بھی ازجان ہوگیا۔پولیس اوردفاعی ذرائع نے بتایاکہ اتوارکورات دیرگئے تقریباًساڑھے 10بجے جنگجوؤں نے کاکہ پورہ پلوامہ میں پچاس آرآرکے کیمپ پرفائرنگ کردی ،جسکے نتیجے میں ایک فوجی اہلکارکانسٹیبل وکرم سنگھ شدیدزخمی ہوگیا،اورزخمی فوجی کوبادامی باغ سرینگرمیں واقع فوجی اسپتال منتقل کیاگیاجہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑبیٹھا۔پولیس ذرائع کے مطابق اس دوران فوج اورجنگجوؤں کے درمیان ہونے والی کراس فائرنگ کی زدمیں آکرنارواہ کاکہ پورہ کارہنے والانوجوان سوموڈرائیوربلال احمدگنائی سرمیں گولی لگنے سے شدیدزخمی ہوگیا،اورنزدیکی اسپتال میں دم توڑبیٹھا۔تاہم مہلوک سومودرائیوربلال گنائی کے لواحقین نے بتایاکہ مہلوک نوجوان اوراُسکاچھوٹابھائی معراج الدین نزدیکی گاؤں ڈوگام ٹاٹاسوموگاڑی زیرنمبرJK01J-9688میں گئے تھے جہاں شراکت پرقائم پولٹر ی فارم نظرگزرکیلئے گئے ہوئے تھے ،کوکاکہ پورہ کے نزدیک فوجیوں نے گولیوں کانشانہ بنایا۔مہلوک سوموڈرائیوربلال گنائی کے غمزدہ الدمحمدرمضان گنائی نے بتایاکہ فوجی کیمپ پرجنگجوئیانہ حملے سے 15یا20منٹ پہلے ہی فوجی اہلکاروں نے میرے بیٹے کوگولی ماردی ،جسکے نتیجے میں وہ شدیدزخمی ہوجانے کے بعدنزدیکی اسپتال میں دم توڑبیٹھاجبکہ اس دوران مہلوک نوجوان کاچھوٹابھائی معراج الدین لاپتہ ہوگیا،اوروہ سوموارصبح تک بھی واپس گھرنہیں پہنچا۔اُدھرمہلوک نوجوان بلال گنائی کے لواحقین اوردیگرلوگوں نے اسکی نعش تب تک لینے سے انکارکردیاجب تک کمسن معراج کاسراغ نہیں لگایاجاتاہے ۔اسی دوران کچھ وقت بعدرات بھرسے لاپتہ نوعمرمعراج واپس گھرپہنچ گیاجسکی تصدیق اُسکے اہل خانہ نے کی ۔ایس ایس پی پلوامہ محمداسلم چودھری نے بتایاکہ مہلوک نوجوان بلال گنائی کاچھوٹابھائی معراج الدین واپس گھرپہنچ گیاہے۔انہوں نے کہاکہ نوجوان سوموڈرائیورکے ازجان ہوجانے اوراُسکے چھوٹے بھائی کے رات بھرغائب رہنے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔نوعمرمعراج کے واپس گھرپہنچ جانے کے بعدلواحقین نے مہلوک نوجوان بلال گنائی کی نعش پولیس سے لیکرجب آبائی گاؤں نارواہ کاکہ پورہ پہنچادی تویہاں کہرام مچ گیا،اورآس پڑوس سے ہزاروں کی تعدادمیں لوگ یہاں پہنچ گئے ۔ہزاروں لوگوں نے معصوم بلال گنائی کی نمازجنازہ میں شرکت کی جبکہ اسے پہلے بلال کی نعش کوایک جلوس کی صورت میں نزدیک ہی واقع ایک میدان میں پہنچایاگیاجبکہ اس دوران خواتین نے معصوم بلال کی میت پرپھولوں اورمٹھائیوں کی برسات کردی ،اورکشمیری روایتی گانے بھی گائے جوعمومی طورپردلہاکے سسرال روانہ ہوتے وقت گائے جاتے ہیں ۔جلوس جنازہ میں شامل لوگوں نے راستے میں اسلام اورآزادی کے حق میں نعرے بلندکئے جبکہ نمازجنازہ اورتدفین کے موقعہ پربھی یہاں فلک شگاف نعرے بازی کی گئی۔نوجوان بلال کی میت کواسلام اورآزادی کے حق میں بلندکئے گئے نعروں کے بیچ اوراشکبارآنکھوں کے سامنے آبائی مقبرہ میں سپردلحدکیاگیا۔اُدھرشبانہ جھڑپ کے دوران ایک مقامی نوجوان کے جاں بحق ہوجانے کے نتیجے میں علاقہ کاکہ پورہ اورقصبہ پلوامہ سمیت ضلع کے دوسرے علاقوں میں بھی تناؤ اورکشیدگی کی صورتحال پیداہوئی ۔اس دوران سوموارکی صبح قصبہ پلوامہ میں اُسوقت خوف ودہشت کی لہردوڑگئی جب یہاں ضلع اسپتال میں موجودکاکہ پورہ کے لوگوں نے مہلوک نوجوان بلال گنائی کی میت لینے سے انکارکرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے شروع کئے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ احتجاجی لوگوں کومنتشرکرنے کیلئے پولیس اورفورسزاہلکاروں نے ضلع اسپتال پلوامہ کی حدودمیں ٹیرگیس شلنگ کی جسکے نتیجے میں اسپتال کے باہراوراندرموجودلوگوں بشمول داخل بیماروں میں خوف وہراس کی لہردوڑگئی ۔ اُدھرممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرپلوامہ قصبہ سمیت کئی علاقوں میں احتیاطی طورپرپابندی عائدکردی گئی ،اورپولیس وفورسزکے اضافی دستے حساس مقامات پرنصب کئے گئے۔جبکہ حکام کی ہدایت پرمواصلاتی کمپنیوں نے ضلع پلوامہ میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کومنقطع کردیا۔
Comments are closed.