امیراکدل کے چھاپڑی فروشوں کا احتجاج
3نے دریائے جہلم میں کود کر خود کشی کرنے کی کوشش کی
سرینگر:۲۶،مئی : / تجارتی مرکز لالچوک میں ہفتہ کو اُس وقت سراسیمگی اور افراتفری پھیل گئی جب امیراکدل کے چھاپڑی فروشوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ،جس دوران 3چھاپڑی فروشوں نے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق دریائے جہلم میں کود کر زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ۔تاہم تینوں چھاپڑی فروشوں کو بچالیا گیا اور صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ۔انہوں نے الزام عائد کہ اُنہیں روزگار سے محروم کیا جارہا ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق امیر اکدل کے نزدیک تجارتی مرکز لالچوک میں اُس وقت عجیب وغریب صورتحال دیکھنے کو ملی ،جب احتجاجی مظاہروں کے دوران 3چھاپڑی فروشوں نے دریائے جہلم میں کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ۔چھاپڑی فروشوں کا الزام ہے کہ اُنہیں چھاپڑی لگانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ،جسکی وجہ سے اُن کا روزگار متاثر ہورہا ہے ۔ان کا کہناہے کہ وہ چھاپڑی لگاکر اپنا روزگار حاصل کررہے ہیں ،لیکن اب اُنہیں چھاپڑی لگانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔امیراکدل اور ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ کے چھاپڑی فروشوں نے امیراکدل کے مقام پر ہفتہ کو احتجاجی مظاہرے کئے ۔انہوں نے کہا کہ آئی جی ٹریفک اور ایس ایم سی کی جانب سے اُنہیں فٹ پاتھوں پر چھاپڑی لگانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں فٹ پاتھوں پر ہمارے کوئی جگہ نہیں ہے ،تو حکومت ہمارے لئے متبادل انتظامات کرے ،جہاں پر ہم چھاپڑی لگا کر اپنا روزگار حاصل کرسکیں ۔ان کا کہناتھا کہ بیشتر پڑھے لکھے نوجوان چھاپڑی لگاکر اپنا روزگار حاصل کررہے ہیں ،کیو نکہ ریاستی حکومت روزگار کے وسائل پیدا کرنے میں ناکام رہی ۔ان کا کہناتھا کہ ہمارے پاس حلال ذریعہ معاش کمانے کا یہی ایک طریقہ ہے ،لیکن انتظامیہ ہمیں روزگار سے محروم کررہی ہے جبکہ حکومت نوجوانوں کو روزگار سے ہمکنار کرنے کی بلند بانگ دعوے کررہی ہے ۔احتجاج کے دوران صورتحال اُس وقت عجیب وغریب ہوگئی جب تین احتجاجیوں نے دریائے جہلم میں چھلانگ لگاکر زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ۔اس موقع پر دیگرنوجوانوں نے دریائے میں کود کر تینوں احتجاجیوں کو بچالیا اور اُنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر صدر اسپتال سرینگر پہنچایا گیا ،جہاں تینوں کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے ۔
Comments are closed.