تاریخی جامع مسجد سرینگر کے اندر وباہر فورسز کارروائی

شہر خاص میں ہڑتال،معمول کی سرگرمیاں متاثر
تاجروں نے جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے ،ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کی مانگ

سرینگر:۲۶،مئی : / شہر خاص میں تاریخی جامع مسجد کے اندر وباہر فورسز کارروائی اور نمازیوں کو زخمی کرنے کے خلاف ہڑتال رہی جبکہ تاجروں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور مطالبہ کیا کہ ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے ،جنہوں نے جمعہ کے روز نمازیوں کوبلا جواز تاریخی جامع مسجد کے اندر اور باہر ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کا نشانہ بنایا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق شہر خاص میں ہفتہ کو مکمل بند ھ رہا جس دوران دکانداروں اور دیگر تاجروں نے جمعہ کے روز کی گئی فورسز کارروائی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ۔سٹی رپورٹر کے مطابق ہفتہ ،نوہٹہ ،گوجوارہ ،خواجہ بازار ،راجوری کدل ،جامع مسجد مارکیٹ ،ملہ رٹہ ،بہوری کدل ،کاؤڈارہ ،قدیم بازار مہاراج گنج ،عالی کدل ،نالہ مار روڑ اور اسکے مضافاتی علاقوں میں ہر طرح کے دکانات اور کاروباری ادارے بند رہے ۔نمائندے کے مطابق تاجروں کی کال پر ہفتہ کو شہر خاص کے تمام بازار بند رہے جسکی وجہ سے یہاں معلوم کی سرگرمیاں متاثر ہو کر رہ گئیں ۔نمائندے کے مطابق شہر خاص میں ہفتہ کو کاروباری اور دیگر معمول کی سرگرمیاں ٹھپ رہی ،جس دوران تاجروں نے پولیس وفورسز کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔تاجروں نے کئی مقامات پر احتجاجی دھرنے اور ریلی نکالی ،جس دوران انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر خاص میں گزشتہ کی گئی فورسز زیادتی کا نوٹس لیا جائے ۔نمائندے کے مطابق شہر خاص کواڑی نیشن کمیٹی کے بینر تلے بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔انہوں نے زینہ کدل چوک میں دھرنا دیا جبکہ گوجوارہ میں بھی تاجروں نے احتجاجی دھرنادیا ۔احتجاجی مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ جمعہ کے روز نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد پولیس وفورسز نے بلا جواز جامع مسجد کے اندر اور باہر نمازیوں و روزہ داروں کو طاقت کا نشانہ بنایا ۔انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز پولیس وفورسز نے جامع مسجد کے اندر اور باہر 50سے زیادہ افراد کو چھروں مضروب کردیا جبکہ کئی افراد کی آنکھوں کی بینائی چھرے لگنے سے متاثر ہوئیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کی بلاجواز پابندیوں کے نتیجے میں بھی اْن کی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔تاجروں نے مطالبہ کیا کہ تاریخی جامع مسجد کے باہر کل کی گئی کارروائی کا سنجیدہ نوٹس لیا جائے اور ملوث پولیس اہلکاروں کو سزا دی جائے ،جنہوں نے پیلٹ فائرنگ کیلئے نمازیوں ،روزہ داروں اور دکانداروں کو نشانہ بنایا ۔ واضح رہے کہ تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں کل نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی نوجوانوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس اور چھرے والی بندوقوں کا شدید استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور دوکانداروں سمیت قریب 40 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس ترجمان نے واقعہ کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ 700سے لیکر800شر پسند عناصر نے جامع مسجد کے باہر نوہٹہ چوک میں تعینات پولیس وفورسز اہلکاروں پر شدید پتھراؤ کیا جبکہ قابلِ اعتراض اور پابندی شدہ جھنڈے لہرانے کی کوشش کی ۔انہوں نے کہا کہ شدید پتھراؤ کے باعث ایس ڈی پی او خانیار ،ایس ایچ او نوہٹہ سمیت کئی اہلکارزخمی ہوئے جبکہ سی آر پی ایف سے وابستہ ہیڈ کا نسٹیبل جے ڈی گرچرن سنگھ F/28شدید زخمی ہوا ۔انہوں نے واقعہ کے سے متعلق ایف آئی آر16/2018زیر دفعات 147،148،152،307،427آر پی سی کے تحت نوہٹہ پولیس تھانہ میں ایک کیس بھی درج کیا گیا ۔

 

Comments are closed.