مجیرگگوئی کیخلاف قانونی چارہ جوئی کرؤنگا

SHRCاورہائی کورٹ جاؤنگا:محمداحسن اونتو

سرینگر:۲۳،مئی :کے این این / مقامی حقوق انسانی کارکن محمداحسن اونتونے کہاکہ وہ ہوٹل سے ایک مقامی لڑکی کیساتھ مشکوک حالت میں پکڑے گئے فوجی افسرمیجرلتل گگوئی کیخلاف ریاستی حقوق انسانی کمیشن اورریاستی ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے ۔انٹرنیشنل فورم فارجسٹس اینڈہیومن رائٹس کے چیئرمین محمداحسن اونتونے کے این این کوفون پربتایاکہ میجرگگوئی کی حرکت سے ثابت ہوتاہے کہ اُسکوفوجی ضابطہ اخلاق اورسماجی حدودکاکوئی احترام یالحاظ ہی نہیں ۔انہوں نے کہاکہ53آرآرکے اس میجرکیخلاف 9اپریل 2017کی حرکت کولیکرکارروائی کی گئی ہوتی ،اوراسکوفوجی حکام نے بلاوجہ اعزازسے نہ نوازاہوتاتوآج یہ میجراس قسم کی شرمناک حرکت کاارتکاب نہ کرتا۔محمداحسن اونتوکاکہناتھاکہ جوابدہی نہ ہونے اورافسپاکے تحت استثنیٰ حاصل ہونے کاہی یہ نتیجہ ہے کہ فوجی افسراوراہلکارباربار سماج مخالف اورانسانیت کش سرگرمیوں کے مرتکب ہوجاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ایک مقامی نوجوان فاروق ڈارساکنہ ژھل براس بیروہ بڈگام کوالیکشن کے روزایک فوجی گاڑی کے بمپرکیساتھ باندھ کرگاؤں گاؤں گھومانے کے مرتکب میجرلتل گگوئی کیخلاف مقامی حقوق انسانی کمیشن اورریاستی ہائی کورٹ میں کیسوں کی سماعت جاری ہے ۔محمداحسن اونتوکے بقول انہوں نے میجرگگوئی کیخلاف ایس ایچ آرسی میں کل6عرضیاں دائرکیں ،جن کی سماعت چل رہی ہے لیکن پولیس کی مصلحت پسندی کی وجہ سے اس فوجی افسرکیخلاف آج تک کاروائی نہیں ہوسکی ۔انہوں نے کہاکہ مقامی حقوق انسانی کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈجسٹس بلا ل نازکی نے فوجی گاڑی کیساتھ باندھے گئے نوجوان فاروق احمدڈارکے حق میں 10لاکھ روپے کامعاوضہ واگزارکرنے کی سفارش کی لیکن ریاستی سرکارنے اس پرعمل نہیں کیاجبکہ معاوضے کی رقم واگزارکرنے کے معاملے میں نون میں نکتہ نکالاگیا۔انٹرنیشنل فورم فارجسٹس اینڈہیومن رائٹس کے چیئرمین کاکہناتھاکہ ایس ایچ آرسی نے مجرگگوئی کیخلاف یہاں مختلف عرضیوں کے تحت زیرسماعت کیس کافیصلہ محفوظ رکھاہے جبکہ میجرگگوئی کیخلاف ہائی کورٹ میں بھی اسی معاملے میں کیس زیرسماعت ہے ۔محمداحسن اونتونے بتایاکہ وہ میجرگگوئی کی جانب سے ایک لڑکی کوپرائیویٹ ہوٹل میں لائے جانے کے سلسلے میں مذکورہ فوجی افسرکیخلاف ریاستی حقوق انسانی کمیشن اورہائی کورٹ میں پیٹیشن دائرکریں گے ۔

Comments are closed.