غیر تدریسی سرکاری ملازمین پر پولیس کی یلغار

متعدد مضروب ،کئی زیر حراست لئے گئے ،سیول سیکریٹریٹ گھیراؤ پر روک

سرینگر:۲۳،مئی:کے این این / ’محکمہ تعلیم میں کام کرنے والے غیر تدریسی ملازمین پر پولیس کی یلغار ‘کے نتیجے میں متعدد ملازمین کو چوٹیں آئیں جبکہ پولیس نے احتجاجی سرکاری ملازمین کی سیول سیکریٹریٹ گھیراؤ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ۔اس دوران احتجاجیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ملازمین کے مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا ،تو احتجاجی مظاہروں میں شدت لائی جائیگی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق محکمہ تعلیم میں کام کرنے والے ملازمین نے بدھ کو اپنے مطالبات کو لیکر احتجاجی مظاہرے کئے ۔سٹی رپورٹر کے مطابق ریاستی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے ملازمین جن میں صفائی کرمچاری ،واچ مین اور دیگر ملازمین شامل ہیں ،پرتاپ پارک لالچوک میں جمع ہوئے ۔احتجاجی ملازمین مستقلی کے حوالے سے مکمل منصوبہ یا پالیسی ترتیب دینے کی مانگ کررہے تھے ۔احتجاجی ملازمین میں خواتین ملازمین بھی شامل تھیں ۔سٹی رپورٹر کے مطابق درجنوں ملازمین نے پر تاپ پارک سرینگر میں احتجاجی دھرنا درج کرنے بعد ملازمین نے طے شدہ پروگرام کے مطابق سیول سیکریٹریٹ کی جانب پیش قدمی کی ۔پولیس نے احتجاجی ملازمین کو پریس کالونی تک محدود رکھنے کی کوشش کی ،جس دوران طرفین کے مابین زبردست مزاحمت ہوئی ۔پولیس نے احتجاجی ملازمین کو تتر بتر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کا کیا پیپرگیس کا استعمال کیا ۔پولیس کارروائی کے نتیجے میں احتجاجی ملازمین کے مار چ میں افر اتفری اور اتھل پتھل پچ گئی ،جسکے نتیجے میں کئی احتجاجی مظاہرین کو چوٹیں آئیں جن میں سے کئی ایک کو شدید چوٹیں آئیں ۔ملازمین نے پولیس کارروائی سے قبل نامہ نگاروں کو بتا یا کہ وہ محکمہ تعلیم میں 30برسوں سے کام کررہے ہیں ۔کنٹجنٹ پیڈ ایمپلائز یونین ( سی پی ای یو) نے صدر نذیر احمد راتھر بتایا کہ اُنہیں 25اور 50روپے معاوضہ لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے سالہا سال سے اُنکے جائز مطالبات کی طرف توجہ مرکوز نہیں کی جبکہ20ہزار عارضی ملازمین کی مستقلی کے منصوبے میں بھی اُنہیں شامل نہیں کیا گیا ۔انہوں نے اس پالیسی پر سوالیہ لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگر اُنکے مطالبات کو پورا نہیں کیا تو احتجاج میں شدت لائی جائیگی ۔

Comments are closed.