ریاستی پولیس کیلئے برائے نام ’خطرات ومشکلات الاؤنس‘
کچھ روپے نہیں، یہ خوداعتمادی اورعزت نفس کامعاملہ :پولیس حکام
سرینگر:۲۳،مئی :/ جموں وکشمیرپولیس میں ’’خطرات ومشکلات الاؤنس‘‘کی برائے نام فراہمی کے معاملے پرعام طورسے یہ تاثر پایاجاتاہے کہ مشکل ترین حالات میں فرائض کی انجام دہی کے باوجودعام کانسٹیبل سے لیکرجملہ گیزیٹیڈافسران تک سبھی کیساتھ ناانصافی برتی جارہی ہے ۔کشمیر نیوزنیٹ ورک کو معلوم ہواکہ دہائیاں قبل ریاستی پولیس میں تعینات افسروں اوراہلکاروں کیلئے جوRisk-Allowanceیعنی خطرات الاؤنس اورHardship-Allowanceیعنی مشکلات الاؤنس مقررکیاگیاتھا،اُس میں حالیہ برسوں میں کوئی خاطرخواہ اضافہ نہیں کیاگیاہے۔محکمہ پولیس کے معتبرذرائع نے بتایاکہ مختلف درجہ بندی میں آنے والے پولیس اہلکاروں ،جونیئرافسروں اورگیزیٹیڈافسروں کیلئے جورسک اورہارڈشپ الاؤنس مقررہے ،وہ کسی بھی طورتسلی بخش یامعقول قرارنہیں دیاجاسکتاہے کیونکہ مرکزی پولیس فورس یعنی سی آرپی ایف کواسے کہیں زیادہ خطرات ومشکلات الاؤنس فراہم کیاجاتاہے جبکہ ریاستی اورمرکزی پولیس فورسزایک ہی قسم کی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں ،اورایک ہی طرزکے مشکلات وخطرات کاسامناکرتے رہتے ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ جموں وکشمیرپولیس کے مختلف شعبہ جات یاونگ ہیں ،اورہرونگ یاشعبہ سے وابستہ اہلکاروں اورافسروں کوایک ہی طرزکے مشکلات وخطرات کاسامناکرناپڑتاہے ۔انہوں نے بتایاکہ سال2016میں مقامی جنگجوکمانڈربرہان وانی کی ہلاکت کے بعدسے ریاستی پولیس کے افسروں اوراہلکاروں کوکشمیرمیں سنگین مشکلات اورخطرات کاسامناکرناپڑرہاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعدکشمیروادی میں درجنوں پولیس اہلکار،ایس پی اوؤزاورکئی جونیئرافسرتشددکے مختلف واقعا ت میں مارے گئے ،متعددافسروں اوراہلکاروں کے گھروں میں حملے کئے گئے ،اوراُن کے اہل خانہ کوڈرایادھمکایاگیا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ جموں وکشمیرکی مجموعی افرادی قوت ایک لاکھ20ہزارکے لگ بھگ ہے ،جس میں 35000کے لگ بھگ ایس پی اوؤزبھی شامل ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ گرچہ پولیس محکمہ میں خواتین افسروں اوراہلکاروں کی مجموعی شرح 3فیصدسے کچھ زیادہ ہے لیکن زنانہ پولیس افسروں اوراہلکاروں کوبھی انفرادی اورخاندانی طورپرسخت مشکلات اورخطرات سے دوچاررناپڑتاہے۔ذرائع نے ریاستی پولیس کوموجودہ اسکیل کے تحت فراہم کئے جارہے Risk-Allowanceیعنی خطرات الاؤنس کے بارے میں بتایاکہ کانسٹیبل کوسالانہ75روپے،ہیڈکانسٹیبل کوسالانہ100روپے ،سیلکشن گریڈکانسٹیبل سے اسسٹنٹ سب انسپکٹرتک سالانہ150روپے ،انسپکٹرکو200روپے سالانہ اورگیزیٹیڈرینک کے افسروں یعنی ڈی ایس پی سے لیکرڈی جی پی تک کوسالانہ محض 225روپے خطرات الاؤنس فراہم کیاجاتاہے ،جوکہ ہراعتبارسے ناکافی اورنامعقول ہے۔ذرائع نے بتایاکہ اسکے برعکس مرکزی پولیس فورس یعنی سی آرپی ایف کے افسروں اوراہلکاروں کوریاستی پولیس کے مقابلے میں کہیں زیادہ یاکئی گنازیادہ رسک الاؤنس دیاجاتاہے ۔ذرائع نے ڈی جی پی ڈاکٹرشیش پال ویدکاحوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ پولیس سربراہ یہ معاملہ بارہاریاستی سرکاراورمرکزی وزارت داخلہ کی نوٹس میں لاچکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ذرائع نے بتایاکہ اس سلسلے میں ریاستی ہوم ڈیپارٹمنٹ اورریاستی سرکارکیساتھ خط وکتابت کی گئی ،لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کوئی مثبت نتیجہ برآمدنہیں ہوسکا۔ذرائع نے ریاستی پولیس کوفراہم کئے جارہے ہارڈشپ یامشکلات الاؤنس کاذکرکرتے ہوئے بتایاکہ پولیس افسروں اوراہلکاروں کوسالانہ 10فیصدہارڈشپ الاؤنس دیاجاتاہے جوکہ کسی بھی طورمعقول نہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ ہارڈشپ یامشکلات الاؤنس کو20فیصدکئے جانے کامعاملہ یامطالبہ بارہامنظرعام پرآچکاہے لیکن ابھی تک اس میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔پولیس محکمہ کے کچھ افسروں نے ’خطرات ومشکلات الاؤنس‘اسکیل پربات کرتے ہوئے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایاکہ یہ کچھ روپے بڑھانے کی بات نہیں بلکہ یہ انصاف،خوداعتمادی اورعزت نفس کامعاملہ ہے ،جس پرسنجیدہ غورکرنے کی ضرورت ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ جموں وکشمیرپولیس کی انفرادی قوت سال2018کے مارچ مہینے تک لگ بھگ80ہزارتھی جبکہ ایس پی اوؤزکی تعدادتقریباً35ہزارہے ،اوران میں زنانہ اہلکاروں اورایس پی اوؤزکی شرح3فیصدسے کچھ زیادہ ہے۔
Comments are closed.