ووٹنگ کے دن ووٹرکوفوجی گاڑی کیساتھ باندھنے والافوجی افسر
میجرگگوئی ،نوعمر لڑکی کیساتھ پکڑاگیا
بیان لیکرپولیس نے چھوڑدیا،تحقیقات ہوگی:آئی جی پی کشمیرزون
فوجی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی:کورٹ آف انکوائری کاامکان
سرینگر:۲۳،مئی :کے این این / 9اپریل 2017کوسری نگرپارلیمانی نشست کیلئے ہوئے ضمنی چناؤکے دوران وسطی ضلع بڈگام کے ژھل براس گاؤں کے رہنے والے فاروق ڈارنامی ایک نوجوان کوفوجی گاڑی کے بمپرکیساتھ باندھ کراسی حالت میں کئی دیہات میں گھومانے کے مرتکب فوج کی 53آرآرسے وابستہ میجرلتل گگوئی کوبدھ کی صبح کچھ مقامی لوگوں نے گرینیڈممتاہوٹل واقع کہنہ کھن ڈلگیٹ میں ایک نوعمرکشمیری لڑکی کیساتھ قابل اعتراض حالت میں پکڑلیا۔جبکہ یہ بھی بتایاجاتاہے کہ ہوٹل میں کمرہ نہ دیئے جانے پرفوجی افسراورہوٹل عملہ کے درمیان بحث وتکرارہونے کے بعدیہاں لڑائی جھگڑے کی صورتحال پیداہوئی ۔کشمیرنیوزنیٹ ورک کو معلوم ہواکہ فوجی افسرکوایک مقامی لڑکی اورایک مقامی شخص کیساتھ پکڑے جانے کی اطلاع جب نزدیکی پولیس تھانہ خانیارکوملی توپولیس کی ایک ٹیم ہوٹل پہچی اورپولیس نے مجیرگگوئی کے علاوہ مقامی لڑکی اوراسکے ساتھ آئے سمیراحمدنامی نوجوان کوبھی اپنی تحویل میں لیکرپولیس تھانہ خانیارپہنچادیا۔بتایاجاتاہے کہ میجرگگوئی نے ہوٹل ممتامیں دوروزکیلئے ایک کمرہ آن لائن کے توسط سے بُک کیاتھا،اوراسی کمرے میں مذکورہ فوجی افسرکوایک لڑکی کیساتھ مشکوک اورقابل اعتراض حالت میں کچھ عام لوگوں نے پکڑا،جسکے بعدپولیس نے مداخلت کرکے فوجی افسر،لڑکی اورسمیراحمدنامی بڈگام کے رہنے والے نوجوان کواپنی تحویل میں لیا۔شہری کوفوجی گاڑی کیساتھ باندھ کرگاؤں گاؤں گھمانے والے میجرلتل گگوئی کوایک کشمیری لڑکی کیساتھ مشکوک حالت میں پکڑے جانے کی خبرپھیلتے ہی سماجی رابطہ گاہ ’’ٹویٹر‘‘پربحث ومباحثہ شروع ہوا،اوراس دوران مقامی اورغیرمقامی صحافیوں اوردیگرلوگوں نے اس واقعے کوشرمناک قراردیتے ہوئے میجرگگوئی کیخلاف سخت کارروائی کامطالبہ کیا۔ٹویٹربحث میں شامل افرادکاکہناتھاکہ یہ فوجی نظم وضبط کی سریحاًخلاف ورزی ہے کہ کوئی فوجی افسرکسی بھی کام کیلئے کسی عام شہری بشمول کسی خاتون یالڑکی کوکسی پرائیویٹ ہوٹل میں بلائے ،اوریہاں ہوٹل کمرے میں ان کیساتھ بیٹھے ۔ادھرپولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایاگیاکہ بدھ کی صبح 11بجے پولیس تھانہ خانیارکو ہوٹل گرینیڈممتاواقع کہنہ کھن سے ایک فون کال موصول ہوئی کہ یہاں کچھ لوگوں کے درمیا ن جھگڑاہوا۔بیان کے مطابق یہ اطلاع ملتے ہی پولیس پارٹی کوہوٹل بھیجاگیاجس نے وہاں سے ایک فوجی افسر،ایک کشمیری لڑکی اوربڈگام ک رہنے والے سمیراحمدنامی نوجوان کواپنی تحویل میں لے لیا۔پولیس ذرائع نے ہوٹل ممتاسے پکڑے گئے فوجی افسراورلڑکی کی شناخت کوخفیہ رکھتے ہوئے بتایاکہ تینوں کوپولیس تھانہ خانیارپہنچایاگیاجہاں ان سے پوچھ تاچھ کی گئی ۔ذرائع کے مطابق مذکورہ لڑکی یاخاتون ہوٹل میں ٹھہرے ایک فوجی افسرسے ملنے کیلئے آئی تھی ۔پولیس ذرائع نے اس واقعے کی مناسبت سے پولیس تھانہ خانیارمیں کیس درج کرکے مزیدتحقیقات شروع کی گئی ۔معلوم ہواکہ میجرلتل گگوئی نے پولیس کوبتایاکہ وہ ہوٹل میں اس لڑکی اوراسکے ساتھ آئے نوجوان کیساتھ بات چیت یامیٹنگ کیلئے ٹھہراتھا۔پولیس بیان کے مطابق ضروری پوچھ تاچھ کے بعدفوجی افسرکواُسکے یونٹ افسرو ں کے حوالے کیاگیا۔پولیس ذرائع نے مزیدبتایاکہ آئی جی پی کشمیرایس پی پانی نے ہوٹل گرینیڈممتاسے ایک فوجی افسرکوایک مقامی لڑکی کیساتھ پکڑے جانے کے واقعے کاسنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ایس پی نارتھ سری نگرکواس واقعے کی تحقیقات عمل میں لانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔اس دوران آئی جی پی کشمیرزون ایس پی پانی نے میڈیاکوبتایاکہ اس کیس کومیرٹ کی بنیادپرلیکراسکی تحقیقات شروع کی گئی ہے ،اورمذکورہ فوجی افسرکے یونٹ کیساتھ بھی رابط کیاگیا۔تاہم آئی جی پی کشمیرنے اس تاثریاقیاس کوغلط قراردیاکہ فوجی افسرکیساتھ ہوٹل سے برآمدہوئی لڑکی نابالغ ہے ۔انہوں نے کہاکہ لڑکی سے برآمددستاویزسے یہ ثابت ہوتاہے کہ وہ نابالغ نہیں بلکہ بالغ ہے۔اُدھرمیڈیارپورٹس کے مطابق فوجی حکام نے سری نگرکے ہوٹل سے فوجی افسرکوایک مقامی دوشیزہ کیساتھ پکڑے جانے کے واقعے کاسخت نوٹس لیکراسکی تحقیقات اورچھان بین اپنے طورپرشروع کردی ہے ۔میڈیارپورٹ میں دفاعی ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے یہ امکان ظاہرکیاگیاہے کہ میجرلتل گگوئی کیخلاف کورٹ آف انکوائری عمل میں لائی جائیگی کیونکہ دوران ڈیوٹی کوئی بھی ایسی حرکت فوجی ضابطہ اخلاق اورقواعدکی خلاف ورزی ہے ۔
Comments are closed.