ہند پاک افواج کے درمیان بین الاقوامی سرحد اور حد متارکہ پر ہیبت ناک اور ہلاکت خیز مارٹر شلنگ و گولہ با ری

جموں میں جنگ کا سماں:آر پار فوجی سمیت7افراد ہلاک ،60زخمی
لاتعداد عمارات کو نقصان ،گاؤں کے گاؤں خالی ،تقریباً ایک لاکھ نفوس کی نقل مکانی ،آر پار ہنگامی حالات کا اعلان

جموں:۲۳،مئی:کے این این / خطہ جموں میں لائن آف کنٹرول سے لیکر بین الاقوامی سرحد پر جنگ جیسی صورتحال پیدا ہونے کے بیچ تازہ آر پار خوفناک اور ہلاکت خیز فائر نگ اور مارٹر شلنگ کے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف7افراد ہلاک ہوئے جن میں پاکستانی رینجر اہلکار بھی شامل ہے جبکہ نصف درجن فورسز اہلکاروں سمیت 60سے زیادہ افراد زخمی ہوئے،اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ہند پاک افواج کے درمیان ایک ہفتے سے جاری شدید فائرنگ اور مارٹر شلنگ کے نتیجے میں آر پار ایک لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی نقل مکانی کر چکی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج آمنے سامنے آنے سے آر پار200سرحدی دیہات میں مقیم لوگوں میں خوف ودہشت کا عالم پایا جارہا ہے ،جو زیر زمین بنائے گئے بینکروں اور انتظامیہ کی جانب سے قائم کئے گئے راحتی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہورہے ہیں ۔دریں اثناء صوبہ جموں کے3اضلاع میں 5کلو میٹر کے دائرے میں آنے سرحدی تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بند رکھنے کا فیصلہ لیا گیا جبکہ پولیس،فائر اینڈ ایمر جنسی عملے ،طبی اور نیم طبی عملے کو الرٹ پر رکھا گیا ہے اور ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کی گئیں ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق صوبہ جموں کے3اضلاع کے6سیکٹروں ارنیا ،آر ایس پورہ ،کٹھوعہ ،رام گڑھ ،ہیرا نگر،سامبا میں ہند پا ک کی افواج آمنے سامنے آگئی ہے ،جس دوران دونوں ممالک کی افواج نے ایکدوسرے کے خلاف جنگی ہتھیاروں کا استعمال کیا ۔معلوم ہوا ہے کہ اِ ن سیکٹروں میں خوفناک اور ہلاکت خیز آتشی گولہ کے تازہ واقعہ میں دو نوں اطراف7افراد ہلاک جن میں ایک پاکستانی رینجر بھی شامل ہے جبکہ 60سے زیادہ افراد زخمی ہوئے جن میں سے کئی ایک کی حالت نازک بنی ہوئی ہے ۔ذرا ئع کا کہنا ہے کہ 2عام شہری رام گڑھ سیکٹر سامبا اور آر ایس پورہ سیکٹر میں2عام شہری اورہیرا نگرایک شہری ہلاک ہوا ہے ۔ہلاکتوں کے حوالے سے ملی تفصیلات کے مطابق خطہ جموں کے 3اضلاع جموں ،کٹھوعہ اور سامبامیں ایک مرتبہ پھر ہند پاک افواج کے درمیان شدید نوعیت کی گولہ باری کا تبادلہ ہو ا۔حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کٹھوعہ، سانبہ اور جموں اضلاع میں درجنوں سرحدی چوکیوں اور دیہات کو نشانہ بناکر گولہ باری کی گئی‘۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں کٹھوعہ کے ہیرا نگر سیکٹر، سانبہ سیکٹر اور جموں کے آر ایس پورہ سیکٹر میں 5 افراد کی موت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ’تینوں اضلاع کے ہیرا نگر، ارنیہ، آر ایس پورہ اور کاناچک میں پاکستان کی طرف سے120 ایم ایم اور 180 ایم ایم مارٹر گولے داغے گئے اور ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی‘۔پولیس ذرائع کے مطابق سامبا میں صبح9بجے دونوں ممالک کے درمیان آتشی گولہ باری کا تازہ تبادلہ شروع ہو ا۔دفاعی ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی رینجروں نے کٹھوعہ ضلع کے سرحدی علاقوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ حفاظتی فورسز کی اگلی چوکیوں کو بھی نشانہ بنایا ۔دفاعی ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے رینجر بار بار لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہے ہیں ،جس کا کرارا جواب دیا جارہا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ کٹھوعہ کے ہیرا نگر سیکٹر میں پاکستانی فوج نے شدید فائرنگ کے ساتھ ساتھ مارٹر گولوں کا استعمال کیا ،جسکے نتیجے میں شہر ی آبادی بری طرح سے متاثر ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ ہیرانگر سیکٹر میں فائرنگ اور مارٹر شلنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ،جن میں سے ایک شہری زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔بتایا جاتا ہے کہ شہری اُس وقت لقمہ اجل بن گیا جب اُسے اسپتال لینے کی کوشش کی جارہی تھی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 100افراد پر مشتمل آبادی کو متاثرہ علاقے سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ متاثر علاقوں میں بلٹ پروف گاڑیوں کی مدد سے لوگوں کو ریسکیو کرنے کا آپریشن جاری ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ ضلع جموں کے آر ایس پورہ ،ار نیا ،بش ناہ اور ضلع سامباکے رام گڑھ سیکٹر میں بھی گولہ باری کا تبادلہ ہوا ۔ ذرائع نے بتایا کہ ان دونوں اضلاع میں گزشتہ شب سے لگا تار فائرنگ اور مارٹر شلنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی رینجروں کی فائرنگ اور مارٹر شلنگ کے نتیجے میں آر ایس پورہ سیکٹر میں ایک شہری ہلاک ہوا جبکہ ارنیا سیکٹر میں متعدد زخمی ہوئے ۔ان اضلاع کے سرحدی علاقوں میں مقیم لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو گزشتہ شب ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا تھا اور یہ سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا ۔معلوم ہوا ہے کہ20عام شہری پاکستانی فوج کی فائرنگ اور مارٹر شلنگ سے زخمی ہوئے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کی فائرنگ اور مارٹر شلنگ سے ارنیا قصبہ بری طرح سے متاثر ہوا ۔معلوم ہوا ہے کہ ار نیا میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد سرکاری کیمپوں یا رشتہ داروں کے یہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں ۔بی ایس ایف حکام کے مطابق سرحدی علاقوں میں تعلیمی اداروں کو تا حکمِ ثانی بند رکھنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرحد کے تمام سیکٹروں میں آر پار فائرنگ اور مارٹر شلنگ پھیل گئی ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ500افراد پر مشتمل آبادی کو عارضی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انتظامیہ نے تعلیمی اداروں اور سرکاری عمارات میں متاثرہ لوگوں کیلئے راحتی کیمپ قائم کئے ہیں ،جہاں پر اُنہیں معقول سہولیت فراہم کی جاتی ہے ۔15مئی سے ہند پاک افواج کے درمیان فائرنگ اور مارٹر شلنگ کاسلسلہ شروع ہوا ،جو گزشتہ9روز سے جاری ہے ۔حکام کے مطابق امسال700 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے واقعات رونما ہوئے ،جن میں40افراد ہلاک ہوئے جن میں18فورسز اہلکار بھی شامل ہیں ۔بی ایس ایف حکام کا کہنا ہے کہ40سرحدی چوکیوں کو پاکستانی رینجروں نے نشانہ بنایا ۔ سرحدی علاقوں میں 5کلو میٹر کی حدود میں تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بند کرنے کا فیصلہ لیاگیا ہے ۔رپورٹس کے مطابق آر ایس پورہ ،ار نیا ،رام گڑھ اور بین الا قوامی سر حد کے دوسرے کئی سیکٹروں میں سرحدی آبادی بری طر ح سے متاثر ہو ئی ہے اور اب تک خطہ جموں میں 40ہزار افراد پر مشتمل آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ لوگوں کی جانب سے نقل مکانی کا سلسلہ ہنوز جارہی ہے ۔ معلوم ہوا ہے آر پار کی فائرنگ اور مارٹر شلنگ کے باعث درجنوں مویشی بھی ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں رہائشی ودیگر ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں ۔صوبہ جموں کے تمام اسپتالوں میں الرٹ جاری کیا گیا ہے جبکہ طبی اور نیم طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کی گئی ہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ ارنیا میں 25دیہات متاثر ہوئے ۔ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ایس پی وید نے کہا کہ زخمی افراد کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے اور پولیس اس معاملے میں متاثرہ افراد کی مدد کررہی ہے۔ ایس پی وید نے کہا کہ ’’ پاکستانی فوجی جموں کے آر ایس پورہ، ارنیہ، رام گڑھ، سامبا اور ہیرا نگر سیکٹروں میں لگاتار دوسرے دن بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہے ہیں‘‘۔ جموں میں حکام نے کہا کہ ’’ سرحد پر منگل کے روز دو طرفہ فائرنگ کا صبح 7بجے آغاز ہوا تھا، پاکستانی فوجیوں نے بھاری مقدار میں شیلنگ کی جس کے جواب میں بھارتی فوج نے بھی منہ توڑ جواب دیا تھا۔ ادھر انتظامیہ نے عوام کو حالات معمول پر آنے تک گھروں میں ہی رہنے کا مشورہ دیا گیا۔ جموں کے اڈیشنل ڈپٹی کمشنر ارجن منہاس نے کہا کہ ’’ آر ایس پورہ اور بشنہ میں 745 افراد کو سات شیلٹرس میں رکھا گیا ہے‘‘۔ ارجن منہاس نے کہا کہ ’’ متاثرہ افراد کو راحت پہنچانے کے لیے ضلع انتظامیہ ہر ممکن کوشش کررہا ہے‘‘۔ پاکستانی فوج کی فائرنگ میں پیر کے روز 8 ماہ کی لڑکی اور 6 عام شہری زخمی ہوئے تھے۔ایک رپورٹ کے مطابق جموں کے تین اضلاع میں 200دیہات متاثر ہوئے اور اطلاعات کے مطابق 76ہزار نفوس پر آبادی نے نقل مکانی کی ۔ ادھر پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیالکوٹ کی 139 کلومیٹر طویل ورکنگ باؤنڈری سے ملحقہ گاؤں پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی جانب سے بلا اشتعال گولہ باری کے نتیجے میں پنجاب رینجرز کا اہلکار اور ایک عمر رسیدہ شخص جاں بحق ہو گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بی ایس ایف نے چرواہ، ہرپل، چاہ پرار، سوچیت گڑھ، باجرا گڑھی اور ظفروال۔شکرگڑھ سیکٹر کو نشانہ بنایا اور پیر کی رات سے منگل کی صبح تک مارٹر فائر کیے جاتے رہے۔جس کے باعث گاؤں کے رہائشیوں نے مکانات پر مارٹر لگنے کے خوف سے کھیتوں میں پناہ لی اور رات جاگ کر گزاری۔اس ضمن میں ریسکیو 1122 کے حکام نے بتایا کہ ظفروال۔شکر گڑھ سیکٹر میں قائم پھگوال پوسٹ پر تعینات پنجاب رینجرز کے اہلکار لانس نائیک محمد شاہد بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے حملے میں شہید ہوئے جبکہ 70 سالہ ملک محمد اسلم اپنے گھر میں مارٹرگولہ گرنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حملے کے نتیجے میں4 افراد زخمی ہوئے جنہیں شکرگڑھ کے تعلقہ ہسپتال اور سیالکوٹ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔اس حوالے سے سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر فرخ نوید اور نارووال کے ڈپٹی کمشنر علی عنان قمر نے بھارتی شیلنگ سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے ہنگامی امداد کا جائزہ لیا۔نارووال میں موجود ڈان کے نمائندے کے مطابق نارووال کے ڈپٹی کمشنر علی عنان قمر نے بتایا کہ انہوں نے ندالہ پھاٹک، ڈوگر اڈا، اور چمل میں3امدادی کیمپ قائم کردیئے ہیں، تاکہ متاثرہ افراد کو ابتدائی طبی امداد، عارضی پناہ گاہ اور خوراک فراہم کی جاسکے جبکہ مویشیوں کے علاج کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں رہائشیوں کو ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی گئی، اس ضمن میں زخمی ہونے والے افراد کو پنجاب حکومت کی جانب سے 75 ہزار روپے جبکہ جاں بحق ہونے والے شخص کے اہل خانہ کو 5 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔دوسری جانب پاکستان رینجرز (پنجاب) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل حیات خان نے سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر موجود متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مہلوک اہلکار لانس نائیک محمد شاہد کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

Comments are closed.