کشمیری قوم کی قربانیاں نا قابل فراموش :مشترکہ مزاحمتی قیادت

پابندیاں ،بندشیں ،خانہ وتھانہ نظر بندی بوکھلاہٹ ،جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچا نے کیلئے وعدہ بند

سری نگر:۲۱،مئی: مشترکہ مزاحمتی قیادت نے پابندیوں ،بندشوں اور خانہ وتھانہ نظر بندی کو سرکاری بوکھلاہٹ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم اور قیادت قربانیوں کو کسی بھی صورت میں نہ تو فراموش کر سکتی ہے اور نہ ہی ان قربانیوں کو نظروں سے اوجھل ہونے دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدس مشن کی آبیاری اور تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک لے جانے کیلئے مزاحمتی قیادت اور عوام وعدہ بند ہے ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت نے سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق کو مسلسل خانہ نظر بند کر کے ان کے گھروں کو جیل خانوں میں تبدیل کرنے اور انکی رہائش گاہوں کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کرنے، محمد یاسین ملک کو گرفتار کرکے تھانے میں مقید رکھنے اور شہر سرینگر میں کرفیو اور بندشوں کے نفاذ کے بیچ کشمیری عوام آج پنے انتہائی ہر دلعزیز اور بے باک رہنما شہید ملت میرواعظ مولوی محمد فاروق ، ۲۱ مئی کے شہدائے حول کے ۲۸ویں ، شہید حریت خواجہ عبدالغنی لون کے ۱۶ویںیوم شہادت اور آج تک کے تمام سرفروش شہداء کی یاد میں یوم شہدا، آنسوؤں اور سسکیوں کے بیچ مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کے پس منظر میں اس عزم اور یقین کے ساتھ منا رہے ہیں کہ اپنے عظیم شہیدوں کے مقدس مشن اور پاکیزہ خون سے مزین تحریک کو ہرگز نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیں گے اور مشن کی تکمیل تک اپنی پر امن جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے ۲۱ مئی کے عیدگاہ کے جلسہ خراج عقیدت کو طاقت کے بل پر ناکام بنانے ، عوام کے تئیں شہید ملت ، شہید حریت، سرفروش شہدائے حول سمیت بلا امتیاز اپنے تمام جیالے شہیدوں کی اجتماعی فاتحہ خوانی اور انہیں خراج عقیدت ادا کرنے کے پروگرام کو گزشتہ کل سے ہی سخت محاصروں، قدغنوں، اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرکے سبوتاژ کرنے کی حکومتی کارروائیوں کو بوکھلاہٹ سے تعبیر کرتے ہوئے اسکی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ قوم اور قیادت اپنے شہیدوں کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں نہ تو فراموش کر سکتی ہے اور نہ ہی ان قربانیوں کو نظروں سے اوجھل ہونے دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ مشکلات، رکاوٹوں اور سرکاری جبر و قہر کے باوجود شہداء کے بلند نصب العین اور مقدس مشن کی آبیاری اور تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک لے جانے کیلئے مزاحمتی قیادت اور حریت پسند عوام وعدہ بند ہے ۔انہوں نے کہا کہ بڑے دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ ریاستی حکومت اپنے جابرانہ ، آمرانہ اور عوام کش پالیسیوں کے سبب مسلسل ۸ سال سے کشمیریوں کے۲۱ مئی کے قومی دن کے موقعہ پر طاقت کا استعمال کرکے پر امن عوامی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کی مذموم پالیسی پر گامزن ہے جو عالمی برادری اور انسانی حقوق کی مسلمہ بین الاقوامی تنظیموں اورانصاف و جمہوریت پر یقین رکھنے والے ممالک کیلئے چشم کشا اور ایک لمحہ فکریہ ہے ۔مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ مزاحمتی رہنماؤں اور تحریکی عہدیداروں اور کارکنوں کے گھروں میں شبانہ چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھنا ،جموں وکشمیر عوامی مجلس عمل کے مرکزی دفتر میرواعظ منزل کامحاصرہ، مزار شہداء عیدگاہ آنے جانے کے راستوں کی ناکہ بندی کٹھ پتلی ریاستی سرکار کا عوامی جدوجہد کے تئیں اعتراف شکست کے مترادف ہے اور نام نہاد جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کے دعوؤں کی عملاً نفی ہے۔دریں اثنا مزاحمتی رہنماؤں جن میں محمد اشرف صحرائی، مختار احمد وازہ، محمد اشرف لایا، غلام محمد گلزار، آغا سید حسن الموسوی الصفوی، انجینئر ہلال احمد وار، محمد یاسین عطائی،محمد یوسف نقاش، بلال احمد صدیقی، بشیر احمد بٹ ، محمد عادل ڈار، سید امتیاز حیدر وغیرہ شامل ہیں کو گرفتار کرکے گھروں اور تھانوں میں مقید رکھا گیا جبکہ محمد شفیع خان ، محمد اسلم شیخ، ایڈوکیٹ یاسر دلال وغیرہ کی قیادت میں کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے عالی مسجد عیدگاہ سے مزار شہداء تک ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی جسے فورسز اور پولیس نے بزور طاقت ناکام بنا دیا جبکہ اس دوران کشمیر کے طول و عرض میں مختلف اضلاع کی مساجد ، خانقاہوں، امام باڑوں ا ور آستانوں میں نماز ظہر کے موقعہ پر ائمہ مساجد اور نمازیوں نے مزار شہداء عیدگاہ سرینگر کے جلسہ خراج عقیدت کو حکومتی ہتھکنڈوں سے ناکام بنانے کی کوششوں کیخلاف شدید احتجاج کیا اور اپنے شہیدوں کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعائیں کی۔

Comments are closed.