کشمیر میں مودی کی تقریرسے کوئی مثبت اثر پیدا نہیں ہوا: سوزؔ
سری نگر:۲۱،مئی:/ سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ کشمیر میں وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی تقریر سے کوئی فائد حاصل نہیں ہوا ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق پروفیسر سیف الدین سوزاپنے ایک بیان میں کہا ’’آج کے دن میں کم از کم یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کل جو مودی جی نے کشمیر میں کہا اُس سے یہاں امید کی کوئی کرن نمودار نہیں ہو گئی بلکہ انہوں نے کشمیریوں کو گلے لگانے کی جو بات کہی تھی اُس کی انہوں نے کوئی تائید بھی نہیں کی، اُن کی تقریر کا لب و لہجہ وہی تھا جو عام طور پر ہوتا ہے‘۔ان کا کہناتھا کہ اگر وکاس ( ترقی) سب چیزوں کا علاج ہوتا تو پھر مودی جی نے اس بات کا احساس نہیں کیا کہ جو نوجوان واویلا کرتے ہیں ،سڑکوں پر نکل آتے ہیں یا اُن میں سے کچھ بندوق اٹھاتے ہیں، اُن کے دماغ میں کوئی پریشانی ہو گی اور اُس پر یشانی کو دیکھنا اور سمجھنا چاہئے۔ جب تک اُن کے ذہن تک رسائی نہیں ہوگی تب تک وہ جھگڑا کرتے رہیں گے ۔ پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ مودی نے اس بات کا نوٹس بھی نہیں لیا ہے کہ فوج کے کئی سینئر جنرل اسی خیال کے ہیں کہ کشمیر میں گولیوں کی بارش سے اور نوجوانوں کو مارنے سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوگا البتہ کشمیر کے سیاسی مسئلے پر سنجیدہ گفتگو کرنے سے اس مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ ادھر وزیر اعلیٰ نے ایجنڈا آف الائنس کا ذکر باربار کیا اُس کے بارے میں بھی انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ اس طرح ان کی یکطرفہ تقریر ہوئی ، اُس سے ظاہر ہوا کہ تینوں خطوں کی بعض ضرورتوں کا اُن کو احساس ہے ۔ مگر اُن کو ریاست کی وحدت کو اجاگر کر کے کشمیر کی سیاسی گتھی کو سلجھانے کی طرف توجہ نہیں ہے۔سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ بات افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گی ان کے مشیر چاہئے وہ فوج میں ہوں یا سول سوسائٹی میں، اُن کو غلط مشورہ دے رہے ہیں۔جس قومی دھارے کی طرف ریاست کی کچھ سیاسی جماعتوں سے وہ مدد طلب کرتے ہیں وہ خود کمزور ہوتے چلے جائیں گے اور کشمیر کے عوام سے الگ تھلگ پڑ جائیں گے ۔کیا ایسے حالات سے مودی جی کو کوئی فائدہ حاصل ہونے والا ہے۔؟ریاست کی قومی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ اُن کے لئے آئندہ معقول بات کیا ہوگی؟۔‘‘
Comments are closed.