دورہ مودی :لالچوک پروگرام پرقدغن ،کوششیں ناکام بنائی گئیں

گیلانی کی خانہ نظر بند ی برقرار،میر واعظ نے کی خانہ نظر بندی توڑنے کی کوشش کی،انجینئر ہلال وار اور فر نٹ کارکنان کے مارچ پر پولیس کی یلغار

سرینگر:۱۹،مئی:/ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی تاریخی لالچوک چلو پروگرام پر صوبائی انتظامیہ اور ریاستی پولیس نے قدغن لگا دی ،جس دوران مزاحمتی لیڈران وکارکنان کی کوششوں کو ناکام بھی بنا دیا گیا ۔بزرگ مزاحمتی لیڈر سید علی گیلانی کی خانہ نظر بندی برقرار رکھی گئی ،جس دوران اُنہیں گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی ،پولیس نے میر واعظ عمر فاروق کی جانب سے اْن کی خانہ نظر بندی کو توڑ کر لالچوک جانے کی کوشش کو اْس وقت ناکام بنا دیا گیا ، جب میر واعظ سرینگر کے نگین علاقے میں واقع اپنی رہائش گاہ سے باہر نکلے اور اپنے ساتھیوں سمیت پیش قدمی کرنے لگے۔اسی طرح حریت (ع) لیڈر اور پیپلز پلٹیکل پارٹی کے چیئرمین انجینئر ہلال احمد وار کو بھی حراست میں لیا گیا ۔ادھر لبریشن فر نٹ کے درجنوں کارکنان کو لالچوک کی جانب پیش قدمی کرنے کے دوران حراست میں لیا گیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت کی لالچوک چلو کال کو صوبائی انتظامیہ اور پولیس نے سخت ترین انتظامات کی بدولت ناکام بنا دیا۔سید علی گیلانی،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ہفتہ کووزیر اعظم ہند نریندرا مودی کے دورہ کشمیر کے پیش نظر تاریخی لالچوک چلو کی کال دی تھی ۔انتظامیہ نے کال ناکام بنانے کیلئے شہر سرینگر میں سخت ترین پابندیاں اور بندشیں عائد کی تھیں ۔اس دوران پولیس نے مزاحمتی لیڈران کی جانب سے لالچوک کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوششوں کو ناکام بنادیا ۔سید علی گیلانی کی خانہ نظر بندی ہفتہ کو بھی برقرار رہی ،جس دوران موصوف کو گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔حریت(گ) ایک ترجمان نے بتایا کہ سید علی گیلانی کی رہائش گاہ واقع حیدر پورہ مکمل پولیس وفورسز محاصرے میں ہے اور ہفتہ کو یہ سلسلہ جاری رہا ۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ سید علی گیلانی نے ہفتہ کو گھر سے باہر قدم رکھنے کی کوشش کی اور لالچوک کی جانب مارچ کرنے لگے ،تاہم گیلانی کے مرکزی در وازے کو بند کرکے اُنہیں گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ادھر لالچوک چلو کال کے پیش نظر حریت(ع) چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں برآمد ہونے والے جلوس کو پولیس نے ناکام بناتے ہوئے میر واعظ عمر فاروق کو حراست میں لیا۔ میر واعظ عمر فاروق ہفتہ کو قریب11بجے کارکنوں کے ہمراہ اپنی رہائش گاہ واقع نگین سے باہر آئے اور خانہ نظر بندی کے حصار کو توڑتے ہوئے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔اس موقع پر یہاں پہلے سے تعینات پولیس و فورسز اہلکاروں نے میرواعظ کو حراست میں لیکر تھانہ نگین میں نظر بند رکھا۔اس موقع پر میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کیا گیا اور مودی کے دورے کو ممکن بنایا گیا ۔ان کا کہناتھا کہ یہاں پرامن احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور طاقت ،قوت ،گرفتاریوں ،پابندیوں وبندشوں سے کشمیریوں کی جائز آواز کو دبا نے کی کوششیں کی جارہی ہیں ،جو کبھی کامیاب نہیں ہونگی ۔ادھر حریت (ع) کے سینئر لیڈر اور پیپلز پولیٹکل پارٹی کے چیئرمیں انجینئر ہلال وار کی جانب سے بھی کوشش کی گئی ،جسے پولیس نے ناکام بنادیا ۔انجینئر ہلال وار اپنے ساتھیوں سمیت جب اپنی رہائش گاہ سے باہر آئے ،تو پولیس نے اُنکو کئی ساتھیوں سمیت حراست میں لیا ۔حراست میں لینے سے قبل مظاہرین نے ’ گومودی گو بیک ‘ کے نعرے بھی لگائے ۔انجینئر ہلال وارنے کہا کہ نریندر مودی اُس ملک کے وزیر اعظم ہیں ،جس نے کشمیری قوم کو جبر اً1947سے غلام بنا رکھا ہے ۔اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبیک کرتے ہوئے لبریشن فر نٹ کے لیڈران وکارکنا ن نے بھی ایک احتجاجی مارچ نکالنے کی کوشش کی ،جسے پولیس نے ناکام بنا دیا ۔نمائندے کے مطابق فرنٹ لیڈران وکارکنان کی ایک بڑی جماعت مائسمہ چوک میں جمع ہو ئی ،جہاں سے انہوں نے لالچوک کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی ،تاہم پولیس نے بڈشاہ چوک کے مقام پر درجنوں فرنٹ کارکنان کو حراست میں لیا ۔فرنٹ احتجاجی ریلی میں شیخ عبد الرشید ،بشیر احمد کشمیری ،محمد صدیق شاہ ،غلام محمد ڈار ،شیخ ایم اسلم ،محمد حنیف وغیرہ شامل ہے ۔اس دوران حریت کانفرنس قائدین مسلم کانفرنس چیرمین شبیر احمد ڈار ،ینگ مینز لیگ چیرمین امتیاز احمد ریشی اور انکے ہمراہ حریت لیڈر غلام نبی وسیم نے اپنا احتجاج درج کیا ۔یاد رہے کہ وزیر اعظم ہند نریندرا مودی کے دورہ جموں کشمیر کے خلاف ہڑتال کی کال دی تھی جبکہ لوگوں سے اپیل کی گئی تھی 19مئی بروز سنیچر لالچوک چلو میں جمع ہوجائیں اور اپنا احتجا ج درج کرائیں۔ مزاحمتی قیادت نے اپنے بیان میں کہا تھاکہ اس روز بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی جموں کشمیر کا دورہ کرنے والے ہیں اس لیے حالیہ ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف اپنا پرامن احتجاج درج کرنے کے لیے۔ اس روز ہر طرف سے جوق درجوق لالچوک پہنچ جائیں ۔

Comments are closed.