وادی میں ہمہ گیر ہڑتال ،زندگی کی رفتار منجمند
شہر خاص اورسیول لائنز میں سخت ترین پابندیاں وبندشیں ، تاریخی لالچوک مکمل طور پر سیل ،اکا دکا پتھراؤ کے واقعات بھی رونما
سرینگر:۱۹،مئی:کے این این/ وزیر اعظم ہند نریندرا مودی کے دورہ جموں کشمیرکے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی احتجاجی ہڑتال کال کے نتیجے میں وادی کے اطراف واکناف میں عام زندگی کی رفتار تھم گئی ۔ادھر احتجاجی مظاہروں اور لالچوک چلو پروگرام کے پیش نظر انتظامیہ نے شہر کے 7پولیس تھانوں کے حدود میں لوگوں کی نقل وحرکت پر کرفیو جیسی پابندیاں وبندشیں عائد کیں جبکہ تاریخی لالچوک کو چاروں اطراف سے خار دار تاروں سے سیل کردیا گیا تھا ۔ادھر شہر خاص میں نما زجمعہ فجر کے موقعے پر ہی نوجوانوں کی ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر صدائے احتجاج بلند کی ،جس دوران مشتعل احتجاجی مظاہرین پولیس وفورسز کے ساتھ اُلجھ پڑے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق وزیر اعظم ہند کے دورہ ریاست کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال اور انتظامیہ کی طرف سے کئی علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو کے نفاذ اور بندشوں کے نتیجے میں وادی میں عام زندگی کی رفتار تھم گئی۔اس سلسلے میں نمائندوں نے جو تفصیلات فراہم کیں ،اُنکے مطابق مزاحمتی قائدین کی کال پر ہفتہ کو ہمہ گیر ہڑتال کے باعث پوری وادی میں معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔نمائندوں کے مطابق وادی بھر میں ہر طرح کے دکانات ،کاروباری ادارے ،تجارتی مرکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے مکمل طور پر غائب رہا۔سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی اداروں میں ہفتہ کو درس وتدریس کا عمل معطل رہا جبکہ عدالتوں میں بھی معمول کا کام کاج متاثر ہوا ۔ادھر انتظامیہ کی ہدایت پر یونیورسٹی سطح کے امتحانات ملتوی کردئے گئے ۔اسکول ،کالج اور یونیورسٹیوں میں ہفتہ کو درس وتدریس نہیں ہوسکاجبکہ ٹرانسپورٹ کی عد م دستیابی کے سبب سرکاری اور نجی کارپوریٹ دفاتر میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی ۔ اس دوران شہرسرینگر میں 7پولیس تھانوں نوہٹہ ،ایم آر گنج ،رعناواری ،خانیار ،صفاکدل ،کرالہ کھڈ اور مائسمہ کے تحت آنے والے علاقوں سخت ترین پابندیاں و بندشیں عائد رہیں ۔شہر سرینگر کے پابندی زدہ پولیس تھانوں کے حدود میں لوگوں کی نقل وحرکت پر مکمل طور پر پابندی عائد رہیں جبکہ خار دار تاروں سے درجنوں علاقوں کو سیل کردیا گیا تھا ،تاکہ لوگ ایکدوسرے علاقوں میں نہ جاسکے اور نہ ہی ایک جگہ جمع ہوسکے۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اورکسی بھی صورتحال سے فوری طور نمٹنے کیلئے بڑی تعداد میں پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ شہر خاص اور سیول لائنز میں سات پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت بندشیں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ فورسز اور پولیس اہلکاروں نے تمام سڑکوں اور چوراہوں پر خار دار تاریں بچھا کر آواجاہی کو ناممکن بنا دیاگیا تھا۔ اس دوران لالچوک چلو پروگرام کے پیش نظر تاریخی لالچوک کو بھی چاروں اطراف سے سیل کردیا گیا تھا ۔لالچوک کی جانب جانے والے راستوں پر خار دار تاروں سے سیل کردیا گیا جبکہ جگہ جگہ پولیس وفورسز نے مشترکہ ناکے اور بیرئر کریٹس نصب کئے گئے ۔شہر میں امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر جگہ جگہ پولیس وفورسز کی جپسیاں اور بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں ۔اس کے علاوہ شہر سرینگر میں پولیس کی گاڑیاں دن بھر گشت کرتی ہوئی نظر آئیں ۔ادھر اطلاعات کے مطابق شہر خاص کے صفاکدل علاقے میں ہفتہ کی علی الصبح تشدد بھڑک اٹھا ۔معلوم ہوا ہے کہ نماز فجر ادا کرنے کے بعد نوجوانوں کی ٹولیاں صفاکدل چوک میں نمودار ہوئیں ،جہاں سے اُنہوں نے نعرہ بازی کرتے ہوئے لالچوک کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی ،جسے پولیس وفورسز نے ناکام بنا دیا ۔معلوم ہوا ہے کہ اس دوران احتجاجی مظاہرین اور پولیس وفورسز کے درمیان مزاحمت ہوئی ،جس دوران پولیس وفورسز نے مشتعل مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی اور مرچی گیس کا استعمال کیا ۔معلوم ہوا ہے کہ جسکے ساتھ ہی طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا کیو نکہ نوجوانوں نے مشتعل ہو کر خشت باری کی جبکہ اضافی فورسز اہلکاروں کو طلب کرکے احتجاجی مظاہرین کو لاٹھی چارج ،ٹیر گیس شلنگ اور مرچی گیس کے استعمال سے منتشر کر دیا گیا ۔بعد ازاں صفاکدل علاقے میں سخت ترین ناکہ بندی کی گئی اور لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ادھر ضلع سرینگر کے ساتھ ساتھ وادی کے باقی9 اضلاع سے بھی مکمل ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔نمائندوں کے مطابق ہڑتال کے دوران جہاں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں، وہیں سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہیں۔ جنوبی کشمیر کے 4اضلاع پلوامہ ،شوپیان ،کولگام اور اسلام آباد میں ہڑتال سے معمول کی سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ چاروں اضلاع کے حساس قصبوں میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے ۔اِدھر وسطی جلع کے بڈگام اور گاندر بل میں بھی اس طرح کی صورتحال دیکھنے کو ملی ۔اُدھر شمالی کشمیر کے 3اضلاع کپوارہ ،بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی ہڑتال سے معمول کی زندگی مفلوج رہی ۔ شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیرکے دیگر حساس علاقوں میں پتھراؤکے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ چند ایک مقامات پرشر پسند عناصر نے امن وقانون میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کیں اور پولیس وفورسز پر پتھراؤ کیا ۔تاہم پولیس وفورسز نے انتہائی صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے طاقت کا کم سے کم استعمال کیا اور شر پسند عناصر کو منتشر کیا۔دریں اثناء ہڑتال اور سرکاری بندشوں کے باعث وادی بھر میں ہو کا عالم رہا ۔
Comments are closed.