کشمیری جملہ سے نریندرمودی کی تقریر کا آغاز واختتام

ترقی مسائل کے حل کی ماں ،تشدد کا راستہ ترک کرنے والے نوجوانوں کی مین اسٹریم والدین:وزیر اعظم ہند

سرینگر:۱۹،مئی:کے این این/ وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے ترقی کو مسائل کے حل کی ماں قرار دیتے ہوئے کہا کہ رمضان سیز فائر تشدد کا راستہ ترک کرنے والے نوجوانوں کیلئے ایک موقع ہے ۔انہوں نے کہا کہ گمراہ ہوچکے نوجوان مین اسٹریم میں واپس آئیں اور اُنکی مین اسٹریم اُنکے والدین ہیں ۔ کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق شیر کشمیر انٹر نیشنل کنوکیشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی )میں رنگ روڑ کا افتتاحی تقریب سے وزیر اعظم نے کشمیر جملے کے ساتھ اپنی تقریر کا آغاز کیا اور اس کشمیر ی جملہ سے اپنی تقریر کا اختتام بھی کیا ،کہ ’خدائے تھیونو خوش تہِ خوشحال‘یعنی اللہ تعلی آپ سب کو خوش اور خوشحال رکھے ۔ نمائندے کے مطابق وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے تعمیر وترقی کومسائل کی ماں قرار دیا ۔انہوں نے کہا’جموں وکشمیر سے جڑے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف ترقی ،ترقی اور ترقی ہے ‘۔انہوں نے اپنی لمبی تقر یر میں کئی پہلوؤں کا ذکر کیا ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں پی ڈی پی ،بھاجپا کے دورِ اقتدار میں تعمیر وترقی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے جسے مرکز کی این ڈی اے سرکار اپنی بھر پور تعاؤن پیش کررہی ہے ،تاکہ یہ ریاست بھی ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح تعمیر وترقی کی طرف گامزن ہو اور پیچھے نہ رہے ۔مودی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں تمام تر وسائل موجود ہیں ،جنکی بدولت اس ریاست کو ’نیو انڈیا ‘ کی مانند ’نیو جموں وکشمیر ‘ بنا یا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر نیوانڈیا کا چمکتا ستارہ بن سکتا ہے ،کیو نکہ یہاں کے قدرتی وسائل میں کوئی کمی نہیں آئی ۔کشمیر میں رمضان سیز فائر کا ذکر کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ یہ فیصلہ کشمیری عوام خاص طو رپر نوجوانوں کو راحت پہنچا نے کیلئے کیا گیا ۔انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو تشدد کا راستہ ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔وزیر اعظم ہند نے کہا کہ ’’کشمیری نوجوان ملک کے دیگر نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا’’ملک کے نوجوان اس وقت نئے بھارت کی تعمیر میں شامل ہوگئے ہیں۔ جموں و کشمیرکے نوجوان بھی اس میں شامل ہوجائیں۔ ریاست کے نوجوان نئے بھارت میں تارے کی طرح جگمیں گے‘‘۔ اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ریاست میں امن نہیں ہے اور نوجوانوں کو امن عمل کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔نریندر مودی نے کہا’’میں نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرکے مین اسٹریم میں آجائیں، ان کی مین اسٹریم ان کے والدین ہیں،آپ کا اپنا خاندان اور جموں وکشمیر کی ترقی ہے‘۔ان کا کہناتھا کہ پتھر اور ہتھیار اٹھانے والے ہاتھ اپنے ہی وطن جموں وکشمیر کو لہو لہان کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو تشدد اور خون خرابے کی دلدل سے باہر نکالنے کا وقت آگیا ہے ،لیکن اسکے لئے سب کا تعاؤن ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی نیت ،نیتی دونوں صاف ہے جبکہ مرکزی حکومت فیصلہ لینے کی سکت بھی رکھتی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ رمضان سیز فائر اُسکی کی ایک کڑی تھی ۔انہوں نے کہا کہ رمضان سیز فائر کا اعلان کشمیری عوام خاص طور پر نوجوانوں کو راحت پہنچانے کیلئے کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ مرکز نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے ۔مودی نے کہا’ ہم نے کشمیر کیلئے مذاکرات کار نامزد کیا ہے ،جو کوئی بھی اُن سے بات کر نا چاہتا ہے ،کرے ،اپنی بات اُنکے سامنے رکھے ‘۔وزیر اعظم ہندنے کہا ’ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کشمیریت کے قائل تھے ،مودی بھی کشمیریت کا مرید ہے ‘۔ان کا کہناتھا کہ کشمیریت اور جمہوریت کا گڑھ جوڑ کو مضبوط بنانے کیلئے عوامی تعاؤن ضروری ہے ۔اپنے دورے کے دوران نریندرمودی نے سرینگر اور لیہ، لداخ، کرگل کے درمیان زوجیلا ٹنل، بانڈی پورہ میں کشن گنگا پروجیکٹ اور رنگ روڑ کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد انہوں نے سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں خطاب کیا۔کشن گنگا پروجیکٹ سے متعلق انہوں نے کہا’اس پروجیکٹ سے ریاست میں معیشت میں اضافہ ہوگا۔ مجھے خوشی ہے کہ اس330 میگاواٹ بجلی پروجیکٹ سے ریاست اور ملک کے دیگر حصوں کو بجلی کی عدم دستیابی سے نجات حاصل ہوگی‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت ریاست کے تمام علاقوں میں بجلی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کررہی ہے۔وادی کے دریاؤں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کا پانی استعمال کرکے نہ ضرف ریاست بلکہ دیگر ریاستوں کو بھی بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔ وزیر اعظم ہند نے کہا کہ ریاست میں2014 میں سیلاب کے دوران انہیں ریاستی عوام کے ساتھ دیوالی منانے کا موقعہ ملا اور اب ماہ رمضان میں ریاست کے عوام کے ساتھ بات کرنے کا موقع فراہم ہوا۔ ان کا کہناتھا ’یہ میری کشمیر کے تئیں والہانہ محبت ہے ،جو مجھے بار بار کشمیر کی طرف مقنا طیس کی طرح کھینچ رہی ہے ‘۔وزیر اعظم ہند نریندر مودی اپنے انداز بیان کیلئے پوری دنیا میں جاننے جاتے ہیں ۔ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ تقریب کے دوران انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز کشمیری جملے سے کیا اور اختتام بھی کشمیر ی جملے سے ہی کیا ۔نریندر مودی نے اپنی تقریر کے دوران کشمیری زبان میں عوام کو خوش رہنے کی دعائیں دیتے ہوئے کہا’خدا تھینو خوش تہ خوش حال یعنی اللہ تعالیٰ آپ سب کو خوش اور خوشحال رکھے‘۔

Comments are closed.