دفعہ35A کیخلاف دائر4 عرضیوں کی سماعت 16اگست کو

نئی دہلی:۱۴،مئی :کے این این : دفعہ35A کیخلاف دائر4 عرضیوں کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ آف انڈیانے 16اگست کی تاریخ مقررکردی۔خیال رہے آئین ہندکی اس دفعہ کے تحت صرف ریاست جموں وکشمیرکے پشتنی باشندوں کویہاں کی زمین وجائیدادکے مالکانہ حقوق حاصل ہیں اوریہ کہ کوئی بھی غیرریاستی شہری جموں وکشمیرمیں زمین وجائیدادخرید نہیں سکتا۔غورطلب ہے کہ دفعہ370اوردفعہ35اے کے تحفظ کویقینی بنانے کیلئے مین اسٹریم جماعتیں متحدہیں ،اوراگست2017میں سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے خصوصی پوزیشن کے مخالفین کویہ سخت پیغام دیاتھاکہ دفعہ35A اور370 نہ رہیں تو کشمیر کا وجود ختم ہو جائے گا جبکہ موجودہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اورسابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کاموقف ہے کہ خصوصی پوزیشن سے متعلق آئینی گارنٹی کیساتھ کوئی چھیڑچھاڑکی گئی توریاست کے انڈین یونین کیساتھ رشتے کونقصان پہنچ جائیگا۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیانے سوموارکوجموں وکشمیراورریاستی عوام کوحاصل خصوصی پوزیشن سے متعلق آئین ہندکی ایک اہم ترین دفعہ35اے کیخلاف دائرعرضیوں کی سماعت کودوسری مرتبہ لگ بھگ تین ماہ کیلئے ٹال دیا۔خیال رہے سال2014میں دلی نشین ایک این جی اؤ’We the Citizensنے سپریم کورٹ میں دفعہ35Aکوچیلنج کرتے ہوئے ایک عرضی دائرکردی تھی جبکہ اسکے بعداسی نازک معاملے پرمزیدتین عرضیاں عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی گئیں ۔سپریم کورٹ نے سبھی چارعرضیوں کوایک ساتھ ملاکران کوزیرسماعت لائے جانے کی حامی بھرلی ۔ستمبر2017میں پہلی مرتبہ دفعہ35Aکیخلاف دائرعرضیوں کوعدالت عظمیٰ میں زیرسماعت لایاگیاتاہم مرکزی سرکارکے پیشکش کردہ موقف کہ جموں وکشمیرکیلئے نامزدکردہ مذاکرات کارکی سرگرمیوں کونقصان پہنچ سکتاہے ،کی بناء پرسپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت موخرکرتے ہوئے تین ماہ کیلئے شنوائی روک دی تھی ۔سوموارکے روزعدالت عظمیٰ کے ایک خصوصی بینچ نے جموں وکشمیرسے جڑایہ معاملہ زیرسماعت لاتے ہوئے اسکی سماعت کوپھرتین ماہ کیلئے ٹالتے ہوئے اگلی سماعت کیلئے16اگست2018کی تاریخ مقررکردی۔خیال رہے دفعہ35اے دراصل دفعہ370کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے۔بتایا جارہا ہے کہ1953میں جموں وکشمیر کے اْس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ35Aکو بھی شامل کیا گیا، جس کی رؤ سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علیحدہ حیثیت حاصل ہے جبکہ آئین ہندکی دفعہ35A کے تحت صرف ریاست جموں وکشمیرکے پشتنی باشندوں کویہاں کی زمین وجائیدادکے مالکانہ حقوق حاصل ہیں اوریہ کہ کوئی بھی غیرریاستی شہری جموں وکشمیرمیں زمین وجائیدادخرید نہیں سکتا۔10اکتوبر2015کو جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں دفعہ370کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ (دفعہ35A) جموں وکشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔

Comments are closed.