جنگ بندی تجویز کی پیش رفت پر سوالیہ نشان
سرینگر :۱۴،مئی/کے این این/ ’جنگ بندی تجویز کی پیش رفت پر سوالیہ نشان‘ لگاتے ہوئے نیشنل کانفرنس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ’ سرینگر سے دلی تک حکمران مخلص اور سنجیدہ نہیں ‘ہیں ۔علی محمد ساگر کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی میں کوئی ہم آہنگی یا تال میل نہیں جبکہ مرکزی وزیر دفاع نے سیز فائر کے امکان کو مسترد کردیا ہے ۔ممبر اسمبلی انجینئر رشید کے بقول کل جماعتی اجلاس میں اُنکی پیش کردہ تجویز پر اندرپی ڈی پی لیڈر خاموش رہے اور باہر وزیر اعلیٰ نے جنگ بندی تجویز کی تشہیر کردی ۔کانگریس ،سی پی آئی ایم اور پی ڈی ایف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی ایسے ہی تحفظات وخدشات کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب دلی والوں کا موقف سامنے آچکا ہے ،تو کل جماعتی وفد کو وہاں بھیجنے کا کیا مقصد ہوگا ۔کشمیر نیوزنیٹ ورک کے مطابق 9مئی کو جھیل ڈل کے کنارے واقع شیر کشمیر انٹر نیشنل کنونشن کمپلیکس (ایس کے آئی سی سی ) میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے طلب کردہ کل جماعتی اجلاس کے بعد کشمیر وادی میں سیز فائر یا جنگ بندی سے متعلق تجویز سامنے آئی ۔اجلاس کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا ،سید بشارت بخاری اور نعیم اختر اندرابی سمیت کئی سینئر لیڈروں کی موجودگی میں نامہ نگاروں کو اجلاس میں کئے گئے تبادلہ خیال کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جملہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی جانب سے ماہر رمضان المبارک ،سالانہ امر ناتھ یاترا اور عید الفطر کے پیش نظر کشمیر میں جنگ بندی کی تجویز سامنے لائی گئی ۔وزیر اعلیٰ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جنگ بندی کی تجویز پر مرکزی حکومت کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جائیگا اور اس سلسلے میں سرینگر ایک کل جماعتی وفد نئی دلی جاکر وزیر اعظم نریندرا مودی کے ساتھ ملاقات کرے گا ۔تاہم اگلے ہی روز مخلوط سرکار میں شامل جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی شاخ کے ترجمان سنیل گپتا نے جموں میں پارٹی ہیڈ کواٹر پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ اُنکی جماعت کشمیر میں جنگ بندی یا جنگجو مخالف کارروائیوں کو روکنے کے حق میں نہیں ہے ۔گزشتہ روز جنگ بندی کی تجو یز کو اُس وقت بڑا دھچکہ لگا جب مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتا رامن نے نئی دلی میں ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جنگ بندی کو خارج ازمکان قرار دیا ۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جنگجوؤں کے خلاف فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے جاری کارروائیوں کوئی روک نہیں لگائی جائیگی اور نہ کشمیر میں جنگجوؤں کے تئیں کوئی نرمی برتی جائیگی ۔اس دوران پی ڈی پی کے سینئر لیڈر ، کابینی وزیر اور مخلوط سرکار کے ترجمان نعیم اختر نے گزشتہ سنیچر کو ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر علیحدگی پسند بھی کل جماعتی وفد کا حسہ بنیں تو بہتر ہو گا ۔بھارتیہ جنتا پارٹی اور مرکزی حکومت کی جانب سے جنگ بندی تجویز کے حوالے سے اپنے موقف کو سامنے رکھنے کے بعد ریاست کی اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ حکمران جماعت پی ڈی پی کے لیڈر بھی مخمصے کے شکار ہوئے ہیں ۔سوموار کے روز اسی صورتحال کی عکاسی کرتے ہوئے اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری اور سابق وزیر علی محمد ساگر نے کے این این کو فون پر بتایا کہ جنگ بندی کی تجویز پر پی ڈی پی اور بھاجپا میں کوئی ہم آہنگی یا تال میل نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا کوئی نیٹ ورک ہی ہے ،جو جنگ بندی کی تجویز کو آگے بڑھا کر مرکز کے سامنے رکھتا ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں جماعتیں خود اس حوالے سے منقسم ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ ایک طرف پی ڈی پی جنگ بندی کے حق میں نظر آرہی ہے لیکن دوسری جانب اسکی حکومتی ساجھے دار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اسکی کھل کر مخالفت کررہی ہے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکمران جماعتوں کو پہلے یہ فیصلہ لینا ہے کہ وہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور خون خرابے کو روکنے کے حوالے سے کتنی سنجیدہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی غیر سنجیدگی کا ہی مظہر ہے کہ مرکزی حکومت نے قبل از وقت ہی اس تجویز کو مسترد کردیا ۔علی محمد ساگر نے کہا کہ ’وہ ہاں ۔ناں ۔ناں ۔ہاں کرکے اقتدارکے مزے لے رہے ہیں ‘۔کل جماعتی وفد کے نئی دلی جانے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں علی محمد ساگرنے کہا کہ وزیر دفاع کا بیان ایک ذمہ دارانہ بیان ہے ۔ان کا کہناتھا کہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کرنے کے حوالے سے مرکزی کی جانب سے ایک ذمہ دار لیڈر کا بیان سامنے آیا ،جو وزیر اعظم کی مشاورت سے دیا گیا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ اب کل جماعتی وفد کا دلی جانے پر بڑا سوالیہ لگ گیا ہے ،کیو نکہ مرکز کا صاف انکار اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ یہاں آنے کی ضرورت نہیں۔ان کا کہناتھا کہ اب ریاستی حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ کل جماعتی وفد کو دلی جانا چاہئے یا نہیں اور اسکو اس حوالے سے لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے ۔ادھر انجینئر رشید نے کہا کہ کل جماعتی اجلاس میں انہوں نے ہی یکطرفہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی ،لیکن حکمران جماعت پی ڈی پی کے کسی بھی ممبر نے اس تجویز کی حمایت نہیں کی ،البتہ سی پی آئی ایم کے ایک ممبر نے میری تجویز کی حمایت کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا اس حوالے سے کیجول اپروچ رہا جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان نے اس تجویز پر غور کرنے سے پہلے ہی پانی پھیر دیا ۔انہوں نے کہا کہ تال میل کے فقدان کے باعث یہ تجویز بے مقصد ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ دلی اور کشمیر کے درمیان رابطے کی خلیج اتنی ہے کہ اگر کشمیر سے نئی دلی کو بات پہنچانے ہو تو وہ وہاں پہنچتے پہنچتے بیچ راستے ہی دم توڑ دیتی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ جنگ بندی تجویز کا حال بھی ایسا ہی ہوا ۔کل جماعتی وفد کے دلی جانے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں انجینئر رشید نے کہا کہ ابھی تک حکومت کی جانب سے اُن کے ساتھ کوئی رابط نہیں ہوا ہے اور کل جماعتی وفد دلی جاتا ہے تو پہلے وہ ایجنڈا کے مطابق ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ لیں گے ۔ کانگریس ،سی پی آئی ایم اور پی ڈی ایف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی ایسے ہی تحفظات وخدشات کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب دلی والوں کا موقف سامنے آچکا ہے ،تو کل جماعتی وفد کو وہاں بھیجنے کا کیا مقصد ہوگا۔ان جماعتوں کے ذرائع نے بتایا کہ جنگ بندی کی تجویز اب بے معنیٰ رہ گئی ہے ،کیو نکہ دلی کا موقف سامنے آچکا ہے ،ایسے میں دلی کے سامنے ایسی کوئی تجویز اب سامنے رکھنا کوئی معنیٰ نہیں رکھتا ۔ان کا کہناتھا کہ مرکزی حکومت کا کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے ،جسکی وجہ سے یہاں صورتحال روز افزوں بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف مرکزی حکومت یہاں تل وزیر اعظم ہند نریندرا مودی کشمیر میں امن کے حوالے سے جمہوریت ،انسانیت اور کشمیریت کی پالیسی اپنانے کا دعویٰ کررہی ہے ،لیکن دوسری جانب نہ تو کشمیر میں جمہوریت کہیں نظر آتی ہے اور نہ ہی انسانیت کا چہرہ دکھتا ہے ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر میں صورتحال کو تب تک معمول پر لانا ناممکن ہے جب امن مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار نہیں کیا جاتا ہے ۔
Comments are closed.