کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ اور دنیا کی کوئی طاقت کشمیر کو بھارت سے الگ نہیں کر سکتا /مرکزی وزیر دفاع
سیز فائر نہیں ، کشمیر میں عسکریت کے مکمل خاتمہ تک جنگجوئوں مخالف آپریشن جاری رہیں گے
سرینگر / 13 مئی / کشمیر کو ایک مرتبہ پھر بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع نرملا ستیا رامن نے کہا کہ عسکریت پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر میں عسکریت کے مکمل خاتمہ تک جنگجوئوں مخالف آپریشن جاری رہیں گے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران میڈیا نمائندوں کی طرف سے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے ماہ رمضان میں سیز فائر تجویر کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر دفاع نرملا ستیا رامن نے واضح کیا کہ عسکریت کے معاملے میں کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کشمیر میں آخری جنگجوئوں کی ہلاکت تک جنگجوئوں مخالف آپریشن جاری رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت ملک کی سالمیت کیلئے بڑا خطرہ ہے لہذا اس کے خاتمہ لازمی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میںامن وا مان کی صورتحال کو قائم کرنے کیلئے عسکریت کا خاتمہ لازمی ہے لیکن جب تک آخری جنگجو کو نہ مارا جائے گا تب تک کشمیر میں جنگجوئوں مخالف آپریشن جاری رہیں گے او ر اس پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج جنگجوئوں کے خلاف لڑ رہی ہے اور انہیں کامیابی حاصل ہو رہی ہے ۔ اسی دوران انہوں نے ایک مرتبہ پھرکشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عسکریت کا خاتمہ کرنے کیلئے کشمیر میں فوج اپنا کام کر رہی ہے اور ہمیں لگ رہا ہے کہ ابھی تک مکمل خاتمہ نہیں ہوا جس کے لئے ہمیں مزید کارروائی کی ضرورت ہے ۔اسی دوران انہوں نے کہا کہ قیام امن کیلئے پاکستان اور بھارت کو دہشت گردی کیلئے مشترکہ کوششیں کرنی ہوگی اور یہ کام پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جب جب بھی دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہوجاتے ہیں تو ایسے عناصرمل کر ان حالات کو خراب کرنے کی کوشش شروع کردیتے ہیں ۔جسکی وجہ سے صورتحال پھر مکدر ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان برابر بھارت مخالف کاروائیوں کا مرتکب ہورہاہے اب اپنا وطیرہ بدلنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کے خلاف ورزیاں اب معمول بن گئی ہیں کیونکہ جہاں پہلے صرف لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہورہی تھی لیکن اب بین الاقوامی بارڈر پر بھی بندوقوں کے دہانے کھول دئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بھارت مخالف کاروائیوں سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں نہیں چاہتی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوں تاہم اس قسم کی صورتحال کیلئے پاکستان ذمہدار ہے اس لئے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ حالات خراب کرنے کی کوششوں کو ہوا نہ دیں بلکہ ایسی طاقتوں کو بے نقاب کرے جو دونوں ملکوں کے درمیان حالات ٹھیک ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے ہیں ۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان سے بھارت بہتر تعلقات چاہتا ہے تاہم اس کے برعکس پاکستان دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے تاہم بھارت برابر اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بہتر رشتوں کا متمنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر ماحول کو بہتر بنانے کیلئے ہر چیز پر بحث لازمی ہے لیکن پاکستان و بھارت کے درمیان مذاکرات صرف اور صرف امن کے ماحول میں ہوسکتے ہیں لہٰذا امن کو ایک موقعہ دینا ہوگا تاکہ ہمیشہ کیلئے مسائل حل کرنے کی راہ ہموار ہوسکے ۔
Comments are closed.