ٹنل کے آ ر پار موسمی قہر ، 17سالہ نوجوان سمیت دو افراد از جاں ، 2پر غش طاری
تیز آندھی سے درجنوں مکانوں کے چھت اڑ گئے ،درخت اکھڑ آئے، بجلی کا نظام بھی درہم برہم ،لوگوں میں خوف و دہشت
سرینگر /12مئی /: ٹنل کے آر پار موسلا دار بارشوں ،تیز آندھی او ر آسمانی بجلی گرنے کے نتیجے میں 17 سالہ نوجوان سمیت دولوگوں کی موت ہوئی جبکہ درجنوں علاقوںمیں تند و تیز طوفانی ہوائوںاور باد و باراںنے لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا اور لوگ خوف کے مارے گھروں میں دب کر رہ گئے ۔طوفانی ہوائوں کی وجہ سے وادی کے اطراف و اکناف میںدرجنوں رہائشی مکانوں کی چھتیں اُڑ گئیں جبکہ بجلی کا ترسیل نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا اور کئی جگہوں پر بجلی کے کھمبے اُکھڑ گئے جبکہ درخت گرنے کے وجہ سے کئی علاقوںمیں عبور و مرور کا سلسلہ بھی ٹھپ ہو کر رہ گیا ۔ جبکہ زرعی فصلوںکے ساتھ ساتھ میوہ باغات کو بھی زبردست نقصان سے دوچار کر دیا ۔ ادھربارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کے ساتھ ہی معمول کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ۔ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے چوبیس گھنٹوں کے دورن وادی کشمیر میں مزید بارشیں ہونے کے امکانات ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق موسم میں خوشگوار تبدیلی کے بیچ محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے عین مطابق سنیچروار کی بعد دوپہر سے کشمیر میں تازہ بارشوں کا سلسلہ شروع ہواجو شام دیر گئے تک وقفہ وقفہ سے جاری ریا ۔وادی میں تازہ بارشوں سلسلہ شروع ہواجس کی وجہ سے معمول کے درجہ حرارت میں پھر سے ایک بار کمی واقع ہوئی ۔ سرینگر سمیت وادی کے دوسرے علاقوں میں وقفہ وقفہ سے بارشیں ہوتی رہیں۔بارشوں کے نتیجے میں معمول کی سرگرمیوں میں خلل پڑا ۔ نمایندے کے مطابق موسم کی غیر یقینی صورتحال نے وادی کے عوام کو ایک بار پھر مایوسی میں مبتلا کردیا ۔ تیز بارشوںکی وجہ سے شہر سرینگر کے سبھی بازاروں میں کاروباری سرگرمیوں پر بھی گہرا اثر پڑا۔نمائندے کے مطابق سرینگر کے علاوہ وادی کے دوسرے میدانی و بالائی علاقوں میں بھی تیز بارشیں ہوئی۔ جس کے نتیجے میں شمالی و جنو بی کشمیر کے اکثر و بیشتر ندی نالوں میں پانی کا بہاو تیز ہوگیا۔ اس دوران تازہ بارشوں کے نتیجے میں شہر سرینگر کی سڑکوں پر جگہ جگہ پانی کی کافی مقدا ر جمع ہوئی جس کے نتیجے میں لوگوں کو چلنے پھرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی سڑکوں پر پانی کی بھاری مقدا ر جمع ہوجانے سے ٹریفک کے چلنے میں بھی دشواریاں پیش آئی۔ادھر بارشوں کے بیچ جنوبی ضلع اننت ناگ کے براری انگن اترسو علاقے میں اس وقت کہرام مچ گیا جب آسمانی بجلی گرنے سے نوجوان کی موت ہوئی جبکہ دو پر غش طاری ہوئی ۔ نمائندے کے مطابق جاں بحق نوجوان کی شناخت 17سالہ مظفر احمد خان ولد ولی محمد کے بطور ہوئی جبکہ دو پر غش طاری ہوئی جن کو نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا ، نمائندے کے مطابق علاقے میں بجلی گر نے سے نوجوان کی موت کی خبر پھیلتے ہی صف ماتم بچھ گیا ۔ اسی دوارن معلوم ہوا ہے کہ اوڑی علاقے میں تیز آندھی کے نتیجے میں ایک معمرشخص از جان ہو گیا ، معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ شہری جنگل میں بھیڑ بکریاں چروارہا تھا جس دوران تیز آندھی کے نتیجے میں اسکا پیر پھسل گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی ۔ادھر بارہمولہ سمیت وادی کے مختلف علاقوںمیں تند و تیز طوفانی ہوائوںاور باد و باراںنے لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا اور لوگ خوف کے مارے گھروں میں دب کر رہ گئے ۔طوفانی ہوائوں کی وجہ سے وادی کے اطراف و اکناف میںدرجنوں رہائشی مکانوں کی چھتیں اُڑ گئیں ۔ تند وتیز طوفانی ہوائوںکی وجہ سے بجلی کا ترسیل نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا اور کئی جگہوں پر بجلی کے کھمبے اُکھڑ گئے جبکہ درخت گرنے کے وجہ سے کئی علاقوںمیں عبور و مرور کا سلسلہ بھی ٹھپ ہو کر رہ گیا ۔ جبکہ زرعی فصلوںکے ساتھ ساتھ میوہ باغات کو بھی زبردست نقصان سے دوچار کر دیا ۔معلوم ہوا ہے کہ تند و تیز طوفانی آندھی نے قہر برپا کردیا ۔معلوم ہوا ہے کہ تند وتیز ظوفانی ہوائوں کا زور اس قدر زیادہ تھا کہ لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ بس اب قیامت آنے والی ہے ۔ طوفانی ہواوں کی وجہ سے مواصلاتی اور بجلی کے نظام کو زبردست نقصان پہنچا بیشتر جگہوں پر بجلی کے کھمبے اور درخت اکھڑ گئے ۔ بجلی کے ترسیلی نظام کے ٹھپ ہونے سے بیشتر علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے ۔معلوم ہوا ہے کہ تیز ہوائوں کی وجہ سے بارہمولہ علاقہ میں قائم ایک اسکول عمارت اور مکان کو نقصان پہنچ گیا تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے جبکہ ملیار ی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ دریں اثنا سی این آئی کے نمائندے نے اس بارے میں جب کئی بزرگ افراد سے بات چیت کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ سب کچھ ناگہانی آفات زلزلے ، سیلاب وغیرہ آتے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ گمراہ ہو گئے ہیں اور وہ مادیت کے غلام بن گئے ہیں اور انسانی قدریں بھول چکے ہیں، ان بزرگوں کا کہنا ہے کہ جب تک لوگ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوںکی معافی نہیں مانگیں گے اورگناہوں کے راستے کو ترک نہیں کریں گے ۔ صورت حال میں بہتری نہیں آسکتی ہے اس لئے لوگوں کو گناہوں سے توبہ کرنا چاہئے ۔ ادھرمحکمہ موسمیات نے وادی میں24 گھنٹوںتک بارشیں ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ مسلسل خراب موسمی صورتحال کے بعد کئی دنوں تک موسم بہتر ہونے سے وادی کے لوگوں نے راحت کی سانس لی تھی لیکن اب ایک بار پھر موسم کی غیر یقینی صورتحال نے وادی کے کسانوں کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں۔اس دوران سٹی رپورٹر کے مطابق وادی کشمیر میں سیاحتی سیزن کم وبیش شروع ہو چکا ہے کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں انتخابی سرگرمیوں کے باوجود ملکی اور غیر ملکی سیاح وارد کشمیر ہوئے ہیں جو یہاں کے قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
Comments are closed.