شہری ہلاکتیں ، وادی اور خطہ چناب میں تیسرے روز بھی مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال

تجارتی و کاروباری سرگرمیاں متاثر ،شہر خاص کے کئی علاقوں میں بندشیں برقرار ،کئی علاقوں میں جھڑپیں

سرینگر 08مئی/ سرینگر اور شوپیان میں جنگجوؤں اورعام شہری ہلاکتوں کے خلاف مشترکہ مزاحمتی خیمے کی طرف سے دی گئی ریاست گیر ہڑتال کے نتیجے میں منگل کو مسلسل تیسرے روز بھی وادی کشمیر اور خطہ چناب میں مکمل ہڑتال کے نتیجے میں معمول کی زندگی متاثر رہی ۔ اسی دوران شہر خاص کے کئی علاقوں میں بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا ۔جبکہ مکمل ہڑتال کے بیچ وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں شہری ہلاکتوں کے خلاف فورسز اور مظاہرین کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔ادھر سیکورٹی وجوہات کی بنا پروادی میں تیسرے روز بھی ریل سروس بھی احتیاطی طور معطل رکھی گئی جبکہ انٹرنیٹ خدمات پر بھی پابندی بدستور جاری ہے ۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر اور شوپیان میں جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوئے جنگجوؤں اور عام شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی کشمیر میں تیسرے روز بھی پائین شہر کے کئی علاقوں میں بندشیں کے بیچ وادی میں مکمل اور ہمیہ گیر ہڑتال رہی ۔شہر خاص کے کئی علاقوں میں منگل کی صبح سے ہی مسلسل تیسرے روز بھی بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے باضابطہ احکامات صادر کئے گئے تھے جس کے تحت کئی علاقوں کو مکمل طور سیل کرکے تمام سڑکوں اور گلی کوچوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔لوگوں نے بتایا کہ شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں گذشتہ شب ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے گشت کا انتظام کیا گیا تھا اور حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔اہلکاروں کو اہم سڑکوں ،چوراہوں اور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا اور جگہ جگہ سخت ناکہ بندی کرکے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔مائسمہ ، گاؤکدل، ریڈ کراس روڑ، ایکسچینج روڑ،بڈشاہ چوک اور ملحقہ سڑکوں پر بھی پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی اور کئی سڑکوں کو دن بھر لوگوں کی آمدورفت کیلئے بند رکھا گیا۔ تاہم شہر کے سول لائنز ائریا میں اگر چہ اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی مگر لوگوں کی نقل و حمل پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ شہر کے کم وبیش تمام علاقوں میں غیر مہلک اسلحہ اور آلات سے لیس سیکورٹی فورسز اور پولیس کو امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کیلئے تیار حالت میں دیکھاگیا۔ اس دوران منگل کو مسلسل تیسرے روز ہڑتالی کال پر شہر اور اسکے گردونواح میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہی۔اْدھر ہڑتال اوربندشوں کے باوجود بھی واد ی کشمیر کے کئی علاقوں میں بندشوں کی پرواہ کئے بغیر سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔ ادھر وادی کے دوسرے علاقوں میں بھی حکم امتناعی کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا تاہم اس کے باوجودپانتھ چوک ، لنگیٹ اور شوپیان کے علاوہ دیگر کئی علاقوں میں بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ہڑتال سے زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔ادھر اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئیں اور سڑکیں بھی دن بھر سنسان نظر آئیں جس کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی۔ادھرممکنہ احتجاج کے پیش نظر حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور دیگر کئی مزاحمتی تنظیموں کے لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند رکھا گیا جبکہ کچھ ایک کو باضابطہ طور گرفتار بھی کیا گیا۔ اسی دوران وادی کشمیر میں منگل کو بھی تمام تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں رہی جبکہ یونیورسٹیوں کی طرف سے لیجانے والے امتحانات بھی ملتوی کر دئے گئے تھے ۔دریں اثناء ہڑتالی کال کے پیش نظرمنگل کو مسلسل تیسرے دن بھی بارہمولہ اور بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس معطل رکھی گئی۔ریلویز کے ایک آفیسر نے بتایا کہ یہ اقدام سیکورٹی وجوہات کی بناء پر احتیاط کے بطور اٹھایا گیا کیونکہ ماضی میں اس طرح کے حالات میں ریلوے املاک کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

Comments are closed.