ڈسٹرکٹ پولیس لائنز سرینگر میں’’ ’’انصاف برائے کمسن ملزمین ایکٹ ‘‘کے متعلق خصوصی تربیتی پروگرام کا اہتمام
مقررین نے کمسن بچوں کو انصا ف فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا
سرینگر03؍مئی؍ یو پ؍ ڈسٹرکت پولیس لائنز سرینگر میں خصوصی تربیتی کیمپ و مناظرہ کاانعقا دعمل میں لایا گیا جس میں ضلع سرینگر کے پولیس آفیسران نے شرکت کی ۔ ایس ایس پی سرینگر امتیاز اسماعیل پرے نے بحیثیت مہمان ذی وقار کے بطور شرکت کی ۔ ’’چلڈ ویلفیئر کمیٹی ‘‘ کی چیرپرسن مس منازہ گلزار نے مہمان خصوصی کے بطور تقریب میں شمولیت کی ۔یو پی آئی کو موصولہ بیان کے مطابق تقریب میں ڈی ایس پی ہیڈ کواٹر سرینگر ، سپیشل پراسیکویشن آفیسر ڈی پی او سرینگر کے علاوہ دوسرے سرکاری وکلاء مختلف پولیس اسٹیشنوں سے وابستہ جیونائل جسٹس آفیسرس اور ایس ایچ او زنے شرکت کی ۔ سینئر پی او ’’ ڈی پی او ‘‘ سرینگر ضیا الرحمن نے اپنے استقبالیہ خطاب میں جیونائل جسٹس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے پولیس آفیسران پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے کر اس قانون پرمن و عن عملدآمد کریں۔ اس موقعے پر پراسکیوشن آفیسر دانش گل نے جیونائل جسٹس ایکٹ کی تفاصیل بیان کرتے ہوئے کہاکہ اس قانون کو لاگو کرنے کا مدعا ومقصد یہ ہے کہ متاثرہ بچوں کو وقت پر انصاف فراہم ہو سکے تاکہ بین الاقوامی سطح پر اس قانون کے تحت جتنے بھی لوازمات ہیں اُن کا خیال رکھ کر اس قانون کی پاسداری یقینی بن سکے۔ انہوں نے جیونائل جسٹس ایکٹ کے متعلق تمام ترپہلوں کے بارے میں شرکاء کو آگاہی دلائی ۔ انہوں نے کہاکہ بچوں کے ساتھ دوستانہ اور گھریلو ماحول اپنانے کی ضرورت ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چلڈ ویلفیئر کمیٹی کی چیرپرسن منازہ گلزار نے کہاکہ جیونائل قانون کا مقصد نہ صرف نابالغ بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے بلکہ ایسے کیسوں سے منسلک افراد کی حفاظت کو بھی یقینی بناناہے۔انہوں نے کہاکہ پولیس آفیسران پر زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کیسوں سے جڑے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ’’ جیونائل جسٹس بورڈ ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ وہ ان کیسوں کے متعلق قانونی پہلوں کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہ متعلقین جن میں پولیس ، سی ڈبیلو سی ، جوڈیشری وغیرہ شامل ہیں کے درمیان تعاون وتال میل کی اہمیت پر زور دیا۔اس موقعے پر ایس ایس پی سرینگر امتیاز پرے نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ قانون کی خلاف ورزی کے نتیجے میں کمسن ملزمین کو سب سے پہلے پولیس سے سامنا ہوتا ہے اور پولیس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کے مطابق کمسن ملزمین کوتحفظ فراہم کریں ۔ انہوں نے کہاکہ کمسن ملزمین کیسوں کے سلسلے میں انسان دوست رویہ اپنانے کی ضرورت ہے جس سے اُن کی اصلاح ممکن ہو سکے۔ ایس ایس پی نے آفیسران پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں مناسب قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد کریں تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بن سکے کیونکہ یہ ہماری سماجی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ اس موقعے پر سینئر پی او ، ڈی پی اوضیا الرحمن نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ’’انصاف برائے کمسن ملزمین ایکٹ ‘‘مشن کا مقصد یہی ہے کہ کمسن ملزمین کو انصاف فراہم کرنا ہے کیونکہ نابالغ ہونے کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر پختہ نہیں ہوتے۔
Comments are closed.