سمیر ٹائیگر کی اجتماعی فاتحہ خوانی میں لوگوں کا سیلاب اُمڑ پڑا
دربگام میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی ، دن بھر مساجد کے لاوڈ سپیکر آزادی ترانوں سے گونجتے ر ہے
سرینگر؍04؍مئی؍ ؍ عسکریت پسند اور عام شہری کی یاد میں پلوامہ اور شوپیاں میں مسلسل تیسرے روز بھی ہڑتال سے معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئیں ۔ اس دوران نمازجمعہ کے بعد دربگام پلوامہ میں لوگوں کی کثیر تعداد نے اجتماعی فاتحہ خوانی میں حصہ لیا ۔ وسطی ضلع بڈگام کے پکھر پورہ گاؤں میں بھی مہلوک جنگجوؤں کی یاد میں مکمل ہڑتال رہی ۔ جے کے این ایس کے مطابق دربگام پلوامہ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جاں بحق حزب کمانڈر سمیر ٹائیگر اور اُس کے ساتھی کی یاد میں پلوامہ اور شوپیاں میں تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال سے زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ۔ نمائندے کے مطابق دونوں اضلاع میں جمعہ کے پیش نظر حفاظت کے کڑے انتظامات کئے گئے تھے تاہم نماز جمعہ کے بعد نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی جس دوران معمولی خشت باری کے واقعات بھی رونما ہوئے۔ نمائندے کے مطابق دربگام اور پکھر پورہ میں صبح سے ہی مساجد کے لاوڈ سپیکروں پر آزادی کے ترانے گونج رہے تھے ۔معلوم ہوا ہے کہ جمعہ صبح سویرے ہی ہزاروں کی تعداد میں لوگ دربگام پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور معروف جنگجو کمانڈر سمیر ٹائیگر کی اجتماعی فاتحہ خوانی میں حصہ لیا ۔ نمائندے کے مطابق لوگوں کی تعداد کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا تھا کہ دربگام میں سمیر ٹائیگر کے آبائی گاؤں میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی اور مقامی نوجوانوں نے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کیلئے طعام کا بھی انتظام کیا تھا۔
Comments are closed.