یوم مئی کے موقعہ پر وادی کے پشمینہ کاری گروں کی حالت ناگفتہ بہہ،انہیں صرف مذاق کے سوا کچھ نہ دیا

قدیم صنعت بچانے کی کوششیں رائیگان،کاریگروں کی آواز صدابصحرا،یوم مئی پر محنت کش مایوس

سرینگر/یکم مئی // دنیا بھر میں محنت کش طبقے کی طرف سے یوم مئی منانے کے بیچ وادی کی پہچان مانی جاتی ہے ،پشمینہ کاریگروں کی حالت ناگفتہ بہ ہوگئی ہے جبکہ اس صنعت کو بچانے کیلئے انتظامی افسران سے لیکر ریاست کے ارباب اقتدار تک کے دفتروں کا طواف کر رہے ہیں تاہم ان کی فریاد صدا بہ صحرا ثابت ہورہی ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق دنیا بھر میںجہاں یوم مئی کو محنت کش طبقہ اپنے حقوق کی پاسداری کیلئے عالمی سطح پر مئی ڈے منا رہا ہے وہی ریاست جموں وکشمیر کے وادی میں پشمینہ کاریگر ،شال باف،قالین باف کاریگروں کیلئے آج کا دن بھی کوئی خوشی لیکر نہیں آیا ۔کشمیر کی شال بافی صدیوں پرانی دستکاری ہے تاہم چرخے کے بجائے مشینوں کو متعارف کرنے کے ساتھ ہی اس صنعت کا جنازہ بھی نکالا گیا ۔کہا جاتا ہے کہ سرمایہ داروں نے مشینوں کے ذریعے پشمینہ کی کتائی کا کا م شروع کیا جس کی وجہ سے جہاں ہزاروں خواتین سمیت لاکھوں لوگوں کے روزگار پر شب کون مارا گیا وہی پشمینہ کے خالص ہونے میں بھی شبہات پیدا کئے گئے ۔ادھر مشینو پر شال تیار کرنے کی وجہ سے وہ لاکھوں کاریگر بھی بے روزگار ہوگئے ہیں جو چرخوں پر پشمینہ کی بنائی کرتے تھے اور اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالتے تھے ۔شہر خاص سمیت گاؤں اور قصبوں میں خاص طور پر خواتین اس صنعت سے جری ہوئی تھی اور اپنی لامثال اور خداداد کاریگری کا نمونہ ہیش کرتی ہوئی وہ روائتی چرخے پر کافی باریک سوت کاتتی تھی ۔اس دوران وہ اپنا روزگار بھی چلاتی تھی اور کشمیر کی اس لافانی صنعت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار بھی ادا کرتی تھی ۔بتایا جاتا ہے کہ تیس سال قبل وادی کی خواتین تقریباََ پانچ کروڑ روپے سالانہ حصے آمدن حاصل کرتی تھیں تاہم چرخے کی اہمیت کو ختم کرنے کے ساتھ ہی خواتین کو آمدونی کا یہ ذریعہ بھی بند ہوا ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے نمائندہ خصوصی نے گام وشہرکئی خواتین جو اس پیشہ سے وابستہ تھیں رابطہ کیا اور انہوں نے اس دردبھری کہانی نمائندہ کو سناکر بے دردی کا احساس دلایا ۔انہوں نے کہا کہ ملازمین اور دیگر طبقوں کی اجرت میں جہاں اضافہ ہوا وہی گذشتہ پندرہ برسوں سے سوت کاتنے والی خواتین اور شالبافوں کی اجرت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشینوں کے بعد رہی سہی کسر اس چیز نے بھی پشمینہ صنعت کو ختم کرنے میں پوری کی ۔سرکار بھی اگرچہ یہ بلند بانگ دعوے کر رہی ہے کہ دست کاری کشمیری معیشت میں ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور حکومت ان صنعتوں کو بچانے کیلئے تک د ود بھی کر رہی ہے تاہم زمینی صورتحال سے اس قدر مختلف ہے کیونکہ یہ صنعت ختم ہورہی ہے اور حکومت اس کو بچانے کیلئے آگے نہیں آرہی ہے ۔ہونا تویہ چاہئے تھا کہ نقلی پر فوری طور پرپابندی عائد کرکے بین الاقوامی سطح پر پہلے اس کی افادیت اور شناخت کو بر قرار رکھا جانا چاہئے جبکہ ان تاجروں اور سرمایہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے جو اصل کے دھوکے میں نقل فروخت کرکے اس تریڈ کی جڑیں کاٹ رہے ہیں ۔ان کاریگروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب اس صنعت کا جنازہ نکالنے کی کوشش کی گئی بلکہ ڈوگرہ راج کے دوران بھی بنکروں عتاب کا نشانہ بنایا گیا اور یہ صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی تھی ۔اس زمانے کے حکمرانوں نے اس صنعت اور شالبافوں پر اس قدر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے شالباف معاشی طور پر خستہ ہوگئے تھے ،شخصی راج کے خلاف شہر خاص اورزالڈگر میں شالبافوں نے ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کیا جس کے دوران کافی خون خرابہ بھی ہوا جو تواریخ کشمیر کا ایک حصہ ہے ،ان کا مانناہے کہ شخصی راج کا دور اگرچہ ختم ہوا اور عوامی راج کا دعویٰ ہونے لگا تاہم ان شالبافوں کی تقدیر شائد نہیں بدلی بلکہ اس دورا میں بھی ارباب اقتدار نے نت نئے حربے آزما کر اس صنعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ۔سی این آئی کے مطابق مزدور سرمایہ داروں کے بنک اکاونٹ ہر دن کے ساتھ بڑھتے گئے ۔اس صنعت سے جڑے ہوئے لوگوں کا ماننا ہے تو سرمایہ داروں نے ریاست کے اندر اور باہر مشینوں پر کتائی کا کام شروع کیا جس کی وجہ سے صدیوں پرانے کشمیری پشمینہ شال کی اصل ہیت متاثر ہوئی ۔بتایا جاتا ہے کہ مشین پر تیار کرنے والے پشمینہ شال کا داگامظبوت بنانے کیلئے فی الوقت اس میں مسنوعی داگا لایا جاتا ہے اور یہ کہ رفل ہینڈ لوم شٹر پر چڑھانے کیلئے ان کے پاس اور کوئی طریقہ کار بھی نہیں ہے کہ پشمینہ میں وول ملایا جائے کشمیری پشمینہ کاریگر یونین کے سربراہ مسٹر قریشی کا کہنا ہے کہ اس پر بس نہیں ہوا بلکہ اب یہ شال پشمینہ ہینڈ لوم کے بجائے رفل ہینڈ لوم پر بننے لگا ہے جس کی وجہ سے اس کی ساخت میں کافی تبدیلی آئی ہے اور یہ خالص بھی نہیں رہا ۔غور طلب بات یہ ہے کہ حکومت نے شہرخاص کی معیشت میں اہم جز تصور کی جانے والی پشمینہ سازی کو بچانے کیلئے 16برس قبل مشینوں پر بنائے جانے والے شالوں پر پابندی کیلئے اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا تھا تاہم ابھی تک اس سلسلے میں عملی طور پر کوئی بھی قدم نہ اٹھانے کا انکشاف ہوا ہے ۔اس سلسلے میں محکمہ صنعت وحرفت نے 16سال قبل ایک آرڈر اجرا کیا تھا جس میں تمام ضلع صنعتی مراکز کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مشینوں پر شال تیار کرنے والے کسی بھی یونٹ کو رجسٹر نہ کریں۔مذکورہ آرڈر میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ مشینوں پر پشمینہ تیار کرنے والے یونٹوں کو سرکار کی طرف سے کوئی بھی مراعات فراہم نہیں کی جائے۔

Comments are closed.