مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے بیچ حزب کمانڈر سمیر ٹائیگر اور اس کا ساتھی آبائی علاقوں میں سپرد خاک
نصف درجن مرتبہ نماز جنازوں میں لوگوں کا سیلاب امڑ آیا ،جلوس جنازہ میں ایک بار پھر جنگجوئوں نمودار ، ساتھی کو سلامی دی
سرینگر/یکم مئی ایک کے بعد ایک نماز جنازوں کی ادائیگی ، مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے بیچ دربگام پلوامہ جھڑپ میں جاں بحق سمیر ٹائیگر اور اس کے ساتھی کو اسلام وآزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کے بیچ اپنے آبائی علاقوں میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیاجبکہ ان کے نمازجنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔اسی دوران ایک مرتبہ پھر جنگجوئوں نے جلوس جنازہ میں نمودار ہوکر جاں بحق ساتھی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ہوا میں گولیاں چلائی اور اسکو سلامی دی ۔ سی این آئی کو نمائندے نے پلوامہ سے اطلاع دی ہے کہ دربگام علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان خونین معرکہ آرائی کے دوران عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ دومقامی جنگجوئوں سمیر ٹائیگر اور عارف احمد سوموار کو جاں بحق ہو گئے ۔ نمائندے کے مطابق دونوں جنگجوئوں کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی پلوامہ کے متعدد علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ نمائندے کے مطابق جونہی سمیر ٹائیگر اور عارف کی نعشوں کو ان کے آبائی علاقوں میں پہنچایا گیا تو اس موقعے پر وہاں کہرام مچ گیااور لوگوں کا جم غفیر علاقے میں امڈ آیا اور اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقے میں لاوڈ اسپیکروں پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔حکام کو امن و قانون کی صورتحال میں خرابی پید اہونے کا احتمال ہے، اس لئے حساس علاقہ جات میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی عمل میں لا ئی گئی۔اسی دوران منگل کی صبح آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے دربگام اور راجپورہ کا رخ کیا جس دوران دونوں جاں بحق جنگجوئوں کے نماز جنازے ادا کئے گئے ،عین شاہدین کے مطابق لوگوں کی بھاری تعداد کے پیش نظر قریب نصف درجن مرتبہ سمیر ٹائیگر کا نما ز جنازہ ادا کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو اور نوجوان کے نماز جنازوں میں ہزاروں لوگوں کی تعداد میں شرکت کی جس کے بعد اس کو اپنے آبائی مقبرئوں میں پْر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔اس دوران جاں بحق جنگجو اور نوجوان کی یاد میں پلوامہ اور پامپور میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہی ۔
Comments are closed.