جیش جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف ترال میں چوتھے روز بھی تعزیتی ہڑتال رہی

نماز جمعہ کے بعد پُر تشدد جھڑپیں ، سی آر پی ایف اہلکار زخمی ، شوپیان میں بھی نوجوان کی ہلاکت کے خلاف معمولات ٹھپ

سرینگر /27اپریل / جنوبی قصبہ ترال میں گزشتہ روز خونین معرکہ آرائی کے دوران چار جیش جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف مسلسل چوتھے روز بھی ہڑتال رہی ۔ اسی دوران قصبہ میں نماز جمعہ کے بعد پُر تشدد احتجاجی مظاہرئے ہوئے جس دوران ایک سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہو گیا ۔ادھر اننت ناگ فائرنگ میں شوپیان کے طالب علم کی ہلاکت کے خلاف بھی ضلع شوپیان میں ہڑتال رہی جس دوران تمام تجارتی و کارو باری سرگرمیاں متاثر رہی ۔ سی این آئی کو نمائندے نے ترال سے اطلاع دی ہے کہ گزشتہ دنوں ترال کے لام علاقے میں خونین معرکہ آرائی کے دوران عسکری تنظیم جیش محمد سے وابستہ چار جنگجو ؤں جاں بحق ہو گئے جن میں سے دو مقامی جبکہ دو دیگر غیر ملکی تھے ۔ نمائندے کے مطابق جاں بحق جنگجوؤں کی یاد میں قصبہ میں چوتھے روز بھی مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں تمام تجارتی و کارو باری سرگرمیاں متاثر رہی جبکہ سڑ کوں سے ٹریفک کی نقل و حمل معطل رہی ۔ اسی دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر قصبہ میں گذشتہ شب ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے گشت کا انتظام کیا گیا تھا اور حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔اہلکاروں کو اہم سڑکوں ،چوراہوں اور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھاجبکہ غیر مہلک اسلحہ اور آلات سے لیس سیکورٹی فورسز اور پولیس کو امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کیلئے تیار حالت میں دیکھاگیا۔ ہڑتال کے نتیجے میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سرکاری دفاتراور بینکوں میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ قصبہ میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب نماز جمعہ کے بعد لوگوں نے احتجاجی مظاہرئے کئے جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کا استعمال کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ طرفین کے مابین پُر تشدد جھڑپوں میں سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہو گیا جبکہ قصبہ میں شام دیر گئے تک حالات کشیدہ بنے ہوئے تھے ۔ ادھر لازی بل اننت ناگ میں جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ضلع شوپیان سے تعلق رکھنے نوجوان کی ہلاکت کے خلا ف ضلع شوپیان میں جمعہ کو مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں تما م تجارتی و کاروباری سرگرمیاں معطل رہی ۔ معلوم ہوا ہے کہ ضلع شوپیان کے بیشتر علاقوں میں تعزیتی ہڑتال کے نتیجے میں تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی جب کہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔

Comments are closed.