آسارام پر فیصلہ آج ،ہو سکتی ہے عمر قید، اسومل ہرپلانی کیسے بنا آسارام باپو

دہلی: تنتر منتر کرنے کے بہانے نابالغہ سے جنسی استحصال کا مجرم روحانی گرو آسارام باپو پر جودھ پور کی خصوصی کورٹ آج فیصلہ سناے گی ۔ مذکورہ معاملہ میں انہیں 10 سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے ۔ علاوہ ازیں آسارام کے آشرم سے دو بچوں کی نر بلی ، سورت کی دو بہنوں کے عصمت دری اور 9 گواہوں پر ہوئے جان لیوا حملہ میں 3 کا قتل جیسے سنگین الزامات لگے ہیں۔جبکہ ایسے سنگین معاملات میں مجرم ہونے کے باوجود ان کے حامی انہیں پاک صاف مانتے ہیں، حتی کہ ان کی پوجا تک کرتے ہیں۔ لہذا ایسےحالات کے مد نظر فیصلہ سے قبل ملک کی 8 ریاستوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور 30 اپریل تک جودھ پور میں دفعہ 144 نافذ رہے گی۔

کون ہے آسارام

آسارام پر فیصلہ آج ،ہو سکتی ہے عمر قید، اسومل ہرپلانی کیسے بنا آسارام باپو

آسارام کا اصل نام اسومل ہرپلانی ہے اور ان کی پیدائش 1941 میں پاکستان کے سندھ علاقہ میں ہوئی تھی۔ تقسیم کے بعد سندھی کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والا ان کا خاندان احمداآباد آگیا اور 20 سال کی عمر میں اسومل نے روحانیت کی راہ پکڑلی اور لیلا شاہ کو اپنا گرو مانا ۔بس یہیں سے آسارام کا نام اسومل ہو گیا ۔سال 1972 میں آسارام نے احمداآباد سے تقریباََ 10 کلومیٹر دور موٹیرا قصبہ میں اپنے پہلے آشرم کا آغاز کیا ۔قابل ذکر ہے کہ آسارام پر عصمت دری ، قتل ، قتل کرنے کی کوشش کے علاوہ آشرم کے لئے لوگوں کی زمین کو قبضہ کرنےکے الزامات بھی لگے ہیں۔

آسارام کے ہیں 4 کروڑ بھکت

قابل ذکر ہے کہ آسارام کے آشرموں کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق دنیا بھر میں ان کے 4 کروڑ پیروکار ہیں۔ علاوہ ازیں دنیابھر میں 400 سےذیادہ آشرم بھی ہیں۔ غور طلب ہے کہ آسارام کا رتبہ بلند کرانے کی غرض سے ان کےبیٹے نارائن سائی نے بھی خود کو روحانیت کے حوالہ کر دیا تھا۔ خبر کے مطابق آسارام نے اپنے پروگراموں کے درمیان مفت کھانہ جیسی سہولیا ت دی تھی جس سے کمزور طبقہ ان سے متاثرہوتا چلا گیا۔تاہم آسارام کے گجرات اور مدھیہ پر دیش کے دیہی علاقوں میں واقع آشرم دیسی دوایں بھی تقسیم کرتے ہیں جس سے علاقہ کے لوگ بڑی تعداد میں ان آشرموں میں جانے لگے۔

لیڈران بھی ہیں باپو کے بھکت

آسارام کا ان جند روحانی گوروں میں شمار ہے جن کے پیروکار کانگریس اور بی جےپی دونوں کے ہی اعلی لیڈران رہ چکے ہیں۔ باپو کے شاگردوں میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپیئی , لال کرشن اڈوانی ، نتن گٹکری ، دگ وجے سنگھ ، کمل ناتھ اور موتی لال ورا جیسے نام قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں شیوراج سنگھ چوہان ، اوما بھارتی ، رمن سنگھ ، پریم کمار دھومل اور وسوندھرا راجے بھی باپو کے آشرم میں حاضرہوتے رہے ہیں۔

خود وزیر اعظم نریندر مودی بھی گجرا ت کے سی ایم ہونے کے درمیان متعدد مرتبہ آسارام کے آشرم میں ہونے والے پروگراموں میں شرکت کر تے رہے ہیں۔ حالانکہ سال 2008 میں جب آسارام کے موٹیرا آشرم میں دو بچوں کے مردہ جسم برامد ہوئے تو ذیادہ تر لیڈران اور سیاسی پارٹیوں نے ان سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔

ملک کے سب سے مہنگے ہیں آسارام کے وکیل

آسارام کے کیس ملک کے سب سے مہنگے وکیل لڑتے رہے ہیں۔ ان وکلاءمیں رام جیٹھ ملانی ، راجو رام چندرن ، سبرامنیم سوامی ، سدھارتھ لوتھرا ، سلمان خرشید ، کے ٹی ایس تلسی اور یو یو للت جیسے نام شامل ہیں۔یو یو للت تو آج کل عدالت عظمی میں جج ہیں۔قابل ذکر ہے کہ آسارام کی ضمانت کی عرضیاں ابھی تک 11بار خارج ہوچکی ہیں۔

Comments are closed.