کنگن گاندربل میں نوجوان کی ہلاکت کیخلاف دوسرے روز بھی احتجاجی ہڑتال
تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں مکمل ٹھپ ،سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب
سرینگر/ 16 پریل // کنگن گاندربل میں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف مسلسل دوسرے روز بھی احتجاجی ہڑتال رہی جس دوران تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں مکمل ٹھپ ہو کر رہ گئی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔جبکہ انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر علاقے میں بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا ۔سی این آئی کے مطابق کنگن گاندربل کے طالب علم جو کہ گزشتہ ہفتے زخمی ہو گیا تھا اتوار کے روز سکمز صورہ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ اسی دوران طالب علم کی ہلاکت کے خلاف سوموار کو مسلسل دوسرے روز بھی علاقے میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں تمام تجارتی و کاروبار ی سرگرمیاں متاثر جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بند رہی ۔نمائندے کے مطابق سوموار کو بھی دکانداروں نے اپنی دکانیں بطور احتجاج بند رکھی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ اتوار کو پیش آئے احتجاجی مظاہروں کے برعکس علاقے میں دن بھر حالات پُر امن رہے اور کسی بھی جگہ کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تاہم علاقے میں اعلیٰ صبح سے ہی بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جس کے نتیجے میں اہم راستوں کو سیل کر دیا گیا تھا ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 22سالہ عامر حمید لون نامی طالب علم گزشتہ ہفتے علاقے میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں زخمی ہو گیا تھا جس کے بعد اس کو صورہ اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم ایک ہفتے تک صورہ اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد عامر لون اتوار کی صبح صورہ اسپتال میں دم توڑ بیٹھا گیا ۔
Comments are closed.