کھٹوعہ کیس کی ریاست سے باہر منتقلی ، ریاستی سرکار کو نوٹس ارسال ،سپریم کورٹ نے کیا جواب طلب
متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت ، کیس کی اگلی سماعت 27اپریل کو مقرر
سرینگر/ 16 پریل / کھٹوعہ میں معصوم بچی کی عصمت دری کے قتل کے معاملے میں ایک اہم پیش وفت کے تحت عدالت عظمیٰ نے متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہوئے کھٹوعہ کیس کو چندی گڑھ کورٹ منتقل کرنے کیلئے ریاستی سرکار کو نوٹس ارسال کیا اور معاملے میں حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ سی این آئی کے مطابق کھٹوعہ میں معصوم بچی کے قتل کے معاملے میں ریاستی سرکار کے ہاتھ میں گیند ڈالتے ہوئے عدالت عظمی نے کیس کو ریاست سے باہر منتقل کرنے کیلئے ریاستی سرکار کو نوٹس ارسال کی ہے اور انہیں اس معاملے میں جواب دینے کی ہدایت دی ہے ۔ اسی دوران کورٹ نے سماعت کے درمیان جموں و کشمیر حکومت کو متاثرہ خاندان اور وکیل کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔عدالت عظمیٰ میں اس پر اگلی سماعت 27 اپریل کو ہوگی۔متاثرہ کے خاندان اور وکیل نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کے اس کیس کو جموں کشمیر سے باہر ٹرانسفر کرنے کی مانگ کی ہے۔ متاثرہ کے خاندان کے جانب سے عدالت عظمیٰ کی سینئر وکیل اندرا جئے سنگھ نے کہا کہ غیر جانب دارانہ جانچ کے لئے وہاں کا موحول صحیح نہیں ہے۔اس سے قبل کٹھوعہ قتل کیس میں ضلع اور سیشن کورٹ نے کہا ہے کہ چارج شیٹ کی کاپی تمام ملزمین کو دی جائے۔ اس معاملہ کی اگلی سماعت اب 28 اپریل کو ہوگی۔اس معالہ میں 8 لوگوں کو ملزم بنایا گیاہے۔ ان ملزمین میں ایک نابالغ بھی شامل ہے جس کی پیشی 24 اپریل کو طے ہوئی ہے۔ صبح 10 بجے ملزمین کو کورٹ نے پیش کیا جائیگا۔
Comments are closed.