زراعت میں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں ضروری / لیفٹنٹ گورنر

جموں/28اپریل

لیفٹنٹ گورنر منوج سِنہانے آجس سکاسٹ جموں میں”دیرپا اور موسمیاتی طور پر زرعی نظام ©: اِختراعات اور پالیسی فریم ورک“ کے موضوع پر قومی سمٹ میں شرکت کی۔ اُنہوں نے سائنسدانوں، اِختراع کاروں اور دیگر شراکت داروںپر زور دیا کہ وہ زراعت میں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے اور دیرپا زرعی ماحولیاتی نظام کو تبدیل کرنے کے لئے مل کر کام کریں۔

اُنہوں نے کہا، ”اَب وقت آ گیا ہے کہ معمولی تبدیلیوں سے آگے بڑھ کر جرا¿ت مندانہ، سائنس پر مبنی اور کسان مرکوز تبدیلی کو اَپنایا جائے۔ پالیسیوں کو ماحول دوست فصلوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ ہمیں لیبارٹری اور کھیتوں کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہوگا اورمحققین کوماحول کے موافق انواع کی تخلیق کو اَپنی اوّلین ترجیح بنانا چاہیے۔“

لیفٹیننٹ گورنرنے کہا کہ ہمارے کھیت تہذیب کی بنیاد، معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور مستقبل کی اُمید ہیں۔
اُنہوں نے کہا،” ہر پالیسی ، ہر مداخلت کو اس بات کا احترام کرنا چاہیے کہ ہمارے کھیتوں اور کسانوں نے صدیوں سے اِنسانیت کو آگے بڑھایاہے۔ اَب موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ کسان کے کھیت سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے اور یہ ہر اس زِندگی کے لئے خطرہ بن چکا ہے جو زراعت اور اس سے منسلک شعبوں پر انحصار کرتی ہے۔ اس بحران کی فوری نوعیت کسی تاخیر کی اِجازت نہیں دیتی۔“
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان اس جدوجہد میں آگے ہے اور 2024-25 میں زرعی پیداوار 357 ملین ٹن تک پہنچ گئی جو 2023-24 کے مقابلے میں 25 ملین ٹن زیادہ ہے جبکہ باغبانی کی پیداوار 362 ملین ٹن رہی جس میں اعلیٰ قیمتی فصلوں کی تنوع بھی شامل ہے۔

اُنہوں نے کہا، ”ہندوستان نے سب سے پہلے ملک بھر میں مٹی کی جانچ کا پروگرام شروع کیا اور 25 کروڑ سوئیل ہیلتھ کارڈز تقسیم کئے۔ کسانوں کی کریڈٹ کی حد 3 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دی گئی۔ قومی مشن کے تحت 100 کروڑ روپے اعلیٰ پیداوار والے بیجوں کے لئے مختص کئے گئے۔ 2013-14 کے بعد دالوں کی خریداری کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر 7,350 فیصد اور تیل دار بیجوں کی خریداری 1,500 فیصد بڑھ گئی۔ تاہم موسمیاتی اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں اور گزشتہ برس مختلف ریاستوں میں شدید موسمی حالات دیکھنے میں آئے۔“

لیفٹیننٹ گورنر نے سائنسدانوں اور اِختراع کاروں سے موسمیاتی طور پر زراعت کے لئے سات نکاتی عزم پر زور دیاجن میں کسانوں کی قیادت میں تحقیق، موسمیاتی اِنشورنس کی توسیع، گرین کریڈٹ، مقامی موسمی مشورے، روایتی بیجوں کا تحفظ، پالیسی ہم آہنگی اور شفاف جائزہ شامل ہیں۔

Comments are closed.