ہند و پاک فوجی سربراہان کے بیانات حوصلہ افزاء/ نیشنل کانفرنس
دونوں ممالک کی حکومتیں امن و مفاہمت کی راہ اختیار کریں
سرینگر/ 16 پریل // نیشنل کانفرنس نے ہندوستان اور پاکستان کے فوجی سربراہوں کے اُن بیانات کا خیر مقدم کیا ہے جن میں دونوں نے امن وامان کیلئے مذاکرات اور مفاہمت کی راہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق پارٹی کے ریاستی ترجمان جنید عظیم متو نے اپنے ایک بیان میں اُمید ظاہر کی کہ دونوں پڑوسیوں کی سیاسی قیادت اور حکومتیں بنا وقت ضائع کئے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔ ہند و پاک فوجی سربراہان کے بیانات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ہمیشہ ہند و پاک کی مضبوط دوستی اور سود مند بات چیت کی حامی رہی ہے تاکہ جنوبی ایشیا، برصغیر خصوصاً ریاست جموں وکشمیر میں ماضی کی طرح پُرامن ماحول قائم و دائم ہوسکے۔ ترجمان نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت، جنگ و جدل اور دھونس و دباؤ کی پالیسی سے آج تک کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے بلکہ ایسے اقدامات سے پیچیدگیاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں اور فیصلہ سازوں کو دونوں ممالک کے فوجی سربراہاں کے بیانات کو سنجیدگی سے لیکر مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ یہ مذاکراتی عمل اُسی صورت میں سودمند اور کامیاب ہوسکتا ہے جب دونوں ممالک خلوص نیت اور کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے اور ایسے تمام سازشوں اور کوششوں آپسی دوستی میں حائل نہیں آنے دیں گے ، جن کا مقصد دونوں پڑوسیوں کے درمیان رنجشیں اور دشمنی بڑھانا ہو۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مفاہمت اور دوستی کے ہر ایک اقدام کا خیر مقدم کرتی ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بھی مذاکراتی عمل تب تک پروان نہیں چڑھے گا جبکہ نہ دونوں پڑوسیوں کے درمیان سب سے پیچیدہ اور دیرینہ حل طلب معاملے مسئلہ کشمیر کو مرکزیت نہیں دی جاتی۔انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر کے اندر بھی بات چیت کا عمل شروع کریں اور لوگوں میں پائی جارہی بد اعتمادی کو دور کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں۔
Comments are closed.