آصفہ بانو عصمت دری و قتل کیس، انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا: محبوبہ مفتی

سری نگر ، 12 اپریل :جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ضلع کٹھوعہ کے رسانہ نامی گاو ¿ں میں جنوری کے اوائل میں پیش آئے دل دہلانے والے آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے عصمت دری اور قتل واقعہ کی تحقیقات فاسٹ ٹریک بنیادوں پر جاری ہے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ’جسٹس فار آصفہ‘ ہیش ٹیک کے ساتھ اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’کچھ لوگوں کی غیرذمہ دارانہ حرکتوں اور بیانات سے انصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ مناسب طریقہ کار پر عمل کیا جارہا ہے۔ تحقیقات فاسٹ ٹریک بنیاد پر جاری ہے۔ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا‘۔ بتادیں کہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے ایک ملزم ایس پی او دیپک کھجوریہ کی رہائی کے حق میں گذشتہ ماہ ترنگا ریلی نکالنے والی ہندو ایکتا منچ، جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ، بار ایسوسی ایشن کٹھوعہ واقعہ کی تحقیقات مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر ایجی ٹیشن کررہی ہیں ۔ ان تنظیموں نے گذشتہ دو ماہ کے دوران کٹھوعہ اور جموں میں ریلیاں نکالیں اور ہڑتالیں کرائیں۔ ہندو ایکتا منچ اور ہائی کورٹ و کٹھوعہ بار ایسو سی ایشن کا مشترکہ موقف ہے کہ کیس کی موجودہ جانچ ایجنسی (کرائم برانچ پولیس) ایک مخصوص کیمونٹی سے وابستہ لوگوں کو کیس میں پھنسا رہی ہے۔ انہیں مبینہ طور پر ریاست کی مخلوط حکومت کی اکائی بی جے پی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی شہ پر کٹھوعہ بار ایسوسی ایشن اور ینگ لائرز ایسوسی ایشن سے وابستہ درجنوں وکلاءنے پیر کے روز چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے احاطے میں شدید ہنگامہ آرائی اور ہلڑبازی کرکے کرائم برانچ کے عہدیداروں کو آصفہ کیس کا چالان عدالت میں پیش کرنے سے روک دیا۔ ہلڑبازی کے اس واقعہ کے بعد احتجاجی وکلاءتنظیمیں شدید تنقید کی زد میں آگئیں۔ چوطرفہ تنقید کے بعد جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کیس کی سی بی آئی سے تحقیقات کا اپنا مطالبہ واپس لیا ۔ ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ بی ایس سلاتھیہ نے بدھ کو یہ اعلان کرتے ہوئے کہا ’ چونکہ اب یہ معاملہ پوری طرح سے عدالت میں آگیا ہے، اس لئے بار ایسوسی ایشن نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ واپس لینے کا فیصلہ لیا ہے‘۔ تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاو ¿ں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کو 10 جنوری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔

Comments are closed.