بندوق اور تشدد ’مسئلہ کشمیر‘ کا حل نہیں

مسلح تصادم کی جگہوں پر جمع ہونے والے نوجوان اپنی موت کے خود ذمہ دار: ایس پی وید

جموں ، 12 اپریل جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا کہ بندوق اور تشدد ’مسئلہ کشمیر‘ کا حل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کے تمام متعلقین بشمول پاکستان کو مل بیٹھ کر اس کا حل نکالنا چاہیے۔ پولیس سربراہ نے کشمیری نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ مسلح تصادم کی جگہوں سے دور رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلح تصادم کی جگہوں پر جمع ہونے والے نوجوان اپنی موت کے ذمہ دار خود ہوتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے مسلح تصادم کی جگہوں پر جمع ہونے کے رجحان کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ تصادم کی جگہوں پر جنگجوو ¿ں کی شادیاں نہیں ہورہی ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر وید نے مسلح تصادموں کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپنے لوگوں کے خلاف اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق افواہیں پاکستان کی طرف سے پھیلائی جارہی ہیں۔ پولیس سربراہ نے جمعرات کو ان باتوں کا اظہار مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ’لائیو ویڈیو چیٹ‘ کے دوران ٹویٹر صارفین کے تحریری سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ ’لائیو ویڈیو چیٹ‘ جس کو پولیس ہیڈکوارٹرس جموں سے پولیس کے آفیشل ٹویٹر اکاو ¿نٹ ’جے اینڈ کے پولیس‘ پر ’آسک ڈی جی پی جے کے‘ ہیش ٹیک کے ساتھ براہ راست نشر کیا گیا، ریاست میں کسی بھی محکمے کی طرف سے لوگوں کو سننے کے لئے شروع کی گئی اپنی نوعیت کی پہلی پہل ہے۔ پولیس سربراہ نے لائیو چیٹ کے دوران انتہائی پیچیدہ اور سخت سوالات کا بھی جواب دیا۔ بعض صارفین ڈاکٹر وید کی ’پسند‘ اور ’ناپسند‘ کے بارے میں بھی دریافت کرتے نظر آئے۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ وہ ریڈ وائن پینا، راجما چاول کھانا، ورزش کرنا، گولف کھیلنا اور فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ڈاکٹر وید ہر ایک سوال کا بے باکی سے جواب دیتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فوج کے خلاف اس وجہ سے کاروائی نہیں کرپاتی ہے کیونکہ فوج کو آرمڈ فورس اسپیشل پاورس ایکٹ کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنا ان کے لئے سب سے مشکل کام تھا۔ پولیس سربراہ نے آصفہ عصمت دری و قتل کیس کی مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی سے انکوائری کرانے سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی پولیس اتنی ہی قابل ہے جتنی سی بی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دل دہلانے والے واقعہ کے سبھی ملوثین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ قومی میڈیا کشمیر کو لیکر مثبت اور تعمیری کردار ادا نہیں کررہا ہے۔ انہوں نے کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات کی بار بار کی معطلی پر کہا کہ وہ ذاتی طور پر انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے حق میں نہیں ہیں لیکن بقول ان کے شرارتی عناصر پولیس کو انٹرنیٹ بند کرانے پر مجبور کرتے ہیں۔ جب ایک ٹویٹر صارف نے پوچھا کہ ’کیاآپ کے پاس کشمیر میں امن کا کوئی حل ہے‘ تو ڈاکٹر وید نے اپنے آپ کو مشکل صورتحال میں پایا، لیکن جواب دینے سے گریز نہیں کیا۔ پولیس سربراہ نے کہا ’یہ ایک پیچیدہ سوال ہے۔ میری خواہش ہے کہ مسئلہ کشمیر بہت آسان ہوتا اور اس کے حل سے متعلق میرا ایک جواب کافی ہوتا۔ مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے کے لئے کئی بہادر لوگ دہائیوں سے کام کررہے ہیں۔ میرا ذاتی طور پر ماننا ہے کہ بندوق مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے۔ تمام متعلقین بشمول پڑوسی ملک پاکستان کومل بیٹھ کر اس کا حل نکالنا چاہیے۔ بندوق اور تشدد کسی بھی لحاظ سے اس کا حل نہیں ہیں۔ میں صرف یہی کچھ کہہ سکتا ہوں‘۔ انہوں نے کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی شہری ہلاکتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ’ہم لوگوں سے مسلسل اپیل کرتے آئے ہیں کہ وہ مسلح تصادم کے مقامات پر نہ آئیں۔ پولیس، جنگجوو ¿ں، فوج اور پیرا ملٹری کی طرف سے چلائی جانے والی گولیاں فضا میں گردش کررہی ہوتی ہیں۔ وہ گولیاں ایک مخصوص شخص کے سینے کو نہیں دیکھتی ہیں۔ وہ کسی کو بھی لگ سکتی ہیں۔ میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مسلح تصادم کے مقامات پر نہ آئیں‘۔ انہوں نے کہا ’جب کوئی شہری جاں بحق ہوتا ہے تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ہماری کوششیں ہوتی ہیں کہ ایک بھی شہری زخمی نہ ہو۔ ان کا وہاں کوئی کام نہیں ہوتا ہے۔ وہاں جنگجوو ¿ں کی شادیاں نہیں ہورہی ہوتی ہیں‘۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ مسلح تصادم کی جگہوں پر جمع ہونے والے اپنی موت کے ذمہ دار خود ہوتے ہیں۔ انہوں نے مسلح تصادموں کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ’اس میں ذرا بھر بھی حقیقت نہیں ہے۔ وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ کوئی انسان دوسرے انسان کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کرسکتا۔ یہ افواہیں پاکستان کی طرف سے پھیلائی جارہی ہیں‘۔ پولیس سربراہ نے فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’فوج کو افسپا کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ ان کے خلاف کوئی بھی مجرمانہ کاروائی شروع کرنے سے پہلے حکومت ہندوستان کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ نوے کی دہائی سے پولیس نے فوج کے خلاف کئی مقدمات درج کئے ہیں۔ کئی واقعات (فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کے) ہماری نوٹس میں آئے اور ہم نے ان کو حکومت کے ساتھ اٹھایا ‘۔ جب ایک ٹویٹر صارف نے ڈاکٹر وید سے پوچھا کہ ’بحیثیت پولیس سربراہ انہیں سب سے مشکل صورتحال کا سامنا کب ہوا‘ تو انہوں نے اپنے جواب میں کہا ’مابعد برہان وانی صورتحال۔ اس صورتحال سے نمٹنا میرے لئے بہت مشکل کام تھا‘۔ پولیس سربراہ نے آصفہ کیس کی سی بی آئی سے انکوائری کرانے سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ’ہمیںکوئی اعتراض نہیں ہے۔ جموں وکشمیر پولیس اتنی ہی قابل ہے جتنی سی بی آئی ہے۔ اگر ہم جنگجویت اور پتھربازی سے لڑسکتے ہیں تو ایک کیس کی تحقیقات کیوں نہیں کرسکتے ہیں۔ ہمارے افسروں کو سی بی آئی تحقیقات کے لئے بھی بلاتی ہے۔ پولیس افسر پولیس افسر ہوتے ہیں۔ وہ ہندو، مسلم، سکھ یا عیسائی نہیں ہوتے‘۔ انہوں نے کہا ’اس واقعہ میں ملوث سبھی لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کرائم برانچ نے واقعہ کا چالان بھی عدالت میں پیش کیا ہے۔ اب عدالت انہیں سزا سنائے گی‘۔ ڈاکٹر وید نے کہا کہ وہ وادی میں ذاتی طور پر انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ’میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ انٹرنیٹ خدمات بند نہ ہوں۔ میں انٹرنیٹ بند کرنے کے بالکل خلاف ہوں۔ لیکن کچھ شرارتی عناصر انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ وہ نفرتیں پھیلاتے ہیں۔ منفی پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ نوجوانوں کو اکساتے ہیں۔ جس کو روکنے کے لئے ہمیں مجبوراً انٹرنیٹ بند کرنا پڑتا ہے‘۔ پولیس سربراہ نے قومی میڈیا کی منفی کشمیر پالیسی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ’میں اتفاق کرتا ہوں۔ قومی میڈیا ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا نہیں کررہا ہے۔ ہم ان کو مشورہ دیتے آئے ہیں کہ وہ کشمیر کی اس طرح سے عکاسی نہ کریں جس سے کشمیری عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچے‘۔ انہوں نے عالمی شدت پسند تنظیم داعش کو ایک خطرناک آئیڈیالوجی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی سطح پر نوجوان متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ داعش ایک آئیڈیالوجی ہے۔ پوری دنیا میں کچھ لوگ اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ کشمیر بھی دنیا کا ہی حصہ ہے۔ کشمیر میں بھی کچھ لوگ اس آئیڈیالوجی سے متاثر ہورہے ہیں۔ یہ ایک ریڈیکل آئیڈیا ہے جو جموں وکشمیر کے لئے بہت خطرناک ہے‘۔ پولیس سربراہ نے انسانی ڈھال بنانے کی وارداتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ’جموں وکشمیر پولیس کے اہلکار ایسی حرکتوں کے مرتکب نہیں ہوتے اور نہ ہی ایسی حرکتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’جموں وکشمیر پولیس سب کے لئے ہیں۔ یہ پولیس کشمیر، جموں اور لداخ میں رہنے والے لوگوں کی پولیس ہے۔ یہ ان کی بھی پولیس ہے جو دنیا کے مختلف کونوں سے یہاں آجاتے ہیں‘۔ ڈاکٹر وید نے کہا کہ پہلی بار سنگ بازی کے مرتکب ہوئے نوجوانوں کو ’عام معافی‘ دینے کے زیر التواءکیسوں کا جلد نپٹارا کیا جائے۔ انہوں نے کہا’ہم نے عام معافی کی سفارش عدالتوں کو بھیج دی ہے۔ کچھ کیسز میں والدین کو پولیس سے رجوع ہوکر تحریری ضمانت دینی تھی۔ ایسے کیسز کو بھی تحریری ضمانت کے بعد عدالتوں کو بھیجا جائے گا‘۔ ایس پی وید نے ریاستی پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر نوجوانوں کو سنگ بازی کے جھوٹے کیسوں میں پھنسانے اور پھر ان کے والدین سے تاوان طلب کرنے سے متعلق ایک شکایت کے بارے میں کہا ’میرے پاس بھی ایسی شکایات آئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر شکایات من گھڑت ثابت ہوتی ہیں۔ اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو وہ مجھ سے یا میرے افسروں سے رجوع کریں۔ ملوث پائے جانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پولیس سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے لوگوں سے جڑنا چاہتا ہے۔ پولیس سربراہ نے سب انسپکٹر اسامیوں کے خواہشمندامیدواروں سے کہا کہ وہ امتحانات کی تیاری شروع کریں۔ انہوں نے کہا ’عدالتی سٹے ہٹ چکا ہے۔ خواہشمند امیدوار امتحانات کی تیاری شروع کریں‘۔ پولیس سربراہ نے اپنے پسندیدہ مشغلوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ’جب میرے پاس وقت ہوتا ہے تو میں فلمیں دیکھتا ہوں۔ میں ورزش کرتا ہوں اور گالف کھیلتا ہوں۔ لیکن پولیس سربراہ ہونے کی وجہ سے مجھے گالف کھیلنے کا وقت نہیں ملتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ میری پسندیدہ فلم ’شعلے‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریڈوائن پینا اور راجما چاول کھانا پسند کرتے ہیں۔ یو این آئی

Comments are closed.