کشمیر میں شہری ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال، سری نگر میں پابندیاں، مختلف خدمات معطل
سری نگر ، 12 اپریل : جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھڈونی میں بدھ کو احتجاجیوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 4 مقامی نوجوانوں کے جاں بحق جبکہ 70 دیگر کے زخمی ہونے کے خلاف وادی کشمیر کے سبھی دس اضلاع میں جمعرات کو مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ صوبہ جموں کے ضلع رام کے بانہال سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قصبہ بھر میں جمعرات کو مکمل ہڑتال کی گئی جس کے دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔ تعلیمی اداروں میں طلباءکی حاضری بہت کم ریکارڈ کی گئی کیونکہ اطلاعات کے مطابق طالب علموں نے ہلاکتوں کے خلاف بطور احتجاج کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ انتظامیہ نے شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سات پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں یہ چوتھی دفعہ ہے کہ جب سری نگر میں پابندیاں نافذ کی گئیں۔ جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں عام شہریوں کی اموات کے بعد وادی کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وادی میں ریل خدمات کو کلی جبکہ موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو جزوی طور پر معطل کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ وادی کے تمام تعلیمی اداروں میں جمعرات کو درس وتدریس کا عمل مقامی انتظامیہ کے احکامات پر معطل رہا جبکہ کشمیر یونیورسٹی کی طرف سے لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کئے گئے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مختلف خدمات کی معطلی کے یہ اقدامات احتیاطی طور پر اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال میں بہتری کے ساتھ ہی ان خدمات کو بحال کیا جائے گا۔ جنوبی کشمیر کے سبھی چار اضلاع کولگام، شوپیان، اننت ناگ اور پلوامہ میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات جمعرات کو مسلسل دوسرے دن بھی منقطع رکھی گئیں ۔ ریلوے عہدیداروں کے مطابق وادی میں جمعرات کو ریل خدمات کلی طور پر معطل کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ سری نگر اور بانہال کے درمیان ریل خدمات بدھ کے روز ہی معطل کی گئی تھیں، تاہم بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان بیشتر ریل گاڑیاں چلائی گئی تھیں۔ وادی کے مختلف حصوں بالخصوص تعلیمی اداروں میں بدھ کو صورتحال اُس وقت کشیدہ رخ اختیار کرگئی جب ضلع کولگام کے کھڈونی میں سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں 4 نوجوانوں کی ہلاکت کی خبر وادی کے اطراف وکناف میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ بدھوار کو وادی کے متعدد مقامات پر احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ مختلف مقامات پر طالب علموں نے اپنے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے باہر آکرشدید احتجاجی مظاہرے کئے۔ طالب علموں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ تاہم کولگام کے کھڈونی میں مسلح تصادم کے مقام پر احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپیں جان لیوا ثابت ہوئیں۔ وانی محلہ کھڈونی میں مسلح تصادم کے مقام پر سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں جاں بحق ہونے والے نوجوانوں کی شناخت 28 سالہ سرجیل احمد شیخ ساکنہ کھڈونی، 16 سالہ بلال احمد تانترے ساکنہ فرصل کولگام، 16 سالہ فیصل الٰہی ساکنہ ملہورہ شوپیان اورسہیل احمد ڈار ساکنہ ریڈونی کی حیثیت سے کی گئی۔ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 70 بتائی جارہی ہے۔ سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسے والے جنگجو جن کی تعداد 2 بتائی جارہی تھی، فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ جنگجوو ¿ں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مسلح تصادم میں ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کولگام میں جھڑپوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف آج (جمعرات کو) پورے کشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی کال دی تھی۔ تاہم انتظامیہ نے ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سری نگر کے سات پولیس تھانوںمیں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردیں۔ اس کے علاوہ وادی کے تمام تعلیمی اداروں میں آج (جمعرات کو) تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ اس کے علاوہ کشمیر یونیورسٹی نے آج (جمعرات کو) لئے جانے والے تمام امتحانات کردیے۔ انتظامیہ نے متعدد علیحدگی پسندوں کو کسی بھی احتجاجی مظاہرے، جلسے یا جلوس کی قیادت کرنے سے روکنے کے لئے تھانہ یا خانہ نظربند کردیا ہے۔ جے کے ایل ایف چیئرمین محمد یاسین ملک کو پولیس نے بدھوار کو حراست میں لیکر پہلے پولیس تھانہ کوٹھی باغ اور بعدازاں سینٹرل جیل سری نگر منتقل کیا۔ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان مسٹر گیلانی و میرواعظ کو اپنے گھروں میں نظربند رکھا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جو قومی راجدھانی نئی دہلی کے دور پر تھیں، نے کولگام میں شہری ہلاکتوں کے تناظر میں جموں میں منعقد ہونے والی کابینہ میٹنگ کو ملتوی کردیا اور نئی دہلی سے براہ راست سری نگر پہنچ گئیں۔ محترمہ مفتی نے کھڈونی میں قیمتی انسانی جانوں کی زیاں پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ریاست جموں وکشمیر کو تشدد اور ہلاکتوں کے چنگل سے باہر نکالنے کے لئے تمام لوگوں کو اکٹھا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ اور کارگذار صدر عمر عبداللہ نے کولگام میں شہری ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ موجودہ پی ڈی پی بھاجپا حکومت میں وادی میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر روک لگانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’ گذشتہ3سال سے لگاتا ر شہری ہلاکتیں ہورہی ہیں اور انسانی جانوں کے زیاں پر روک لگانے کے لئے کچھ بھی نہیں کررہی ہے۔ وزیرا علیٰ کی طرف سے صرف اخبارات میں ایس او پی پر عملدآمد کرنے کی خبریں شائع ہوتیں لیکن زمینی سطح پر اس کا کہیں اطلاق نہیں ہورہا ہے‘۔ ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر یونیورسٹی کے ہوسٹلوں میں مقیم طالبات نے گذشتہ رات دیر گئے اپنے کمروں سے باہر آکر کولگام ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ انہوں نے کشمیر میں شہری ہلاکتوں کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ امن وامان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ضلع سری نگر کے سات پولیس تھانوں بشمول خانیار، نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج، رعناواری، کرال کڈھ اور مائسمہ میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پابندیاں اگلے احکامات تک جاری رہیں گی۔ تاہم جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کچھ ایک علاقوں بشمول قصبہ کولگام میں غیراعلانیہ پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ ریاستی پولیس نے سری نگر میں پابندیوں کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک عارضی اقدام قرار دیا ہے۔ کشمیر زون پولیس کے ٹویٹر ہینڈل سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ’امن وقانون کو بنائے رکھنے کے لئے آپ کا پولیس آپ سے تعاون طلب کرتا ہے۔ آج (جمعرات کو) آپ شہر کے کچھ علاقوں میں پابندیاں پائیں گے۔ اگرچہ اس سے آپ کو پریشانی ہوگی، لیکن ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ احکامات عارضی ہیں۔ آپ کسی بھی راحت کے لئے 100 ڈائیل کریں‘۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعرات کی صبح شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، کے مطابق سری نگر کے پابندی والے علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ تمام راستوں بشمول نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر چھتہ بل تک خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے۔ نالہ مار روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ ادھر سیول لائنز میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے گڑھ مانے جانے والے مائسمہ کی طرف جانے والے بیشتر راستوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ مائسمہ میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسزکی بھاری جمعیت تعینات کردی گئی ہے۔ دریں اثنا وادی کے سبھی دس اضلاع میں جمعرات کو علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی۔ سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سرکاری دفاتراور بینکوں میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میںدکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھراو ¿ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اِن اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ اس دوران انتظامیہ نے کولگام میںعام شہریوں کی اموات کے بعد وادی کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر ریل خدمات کو کلی جبکہ موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو جزوی طور پر معطل کرکے رکھ دیا ہے۔ محکمہ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ ہم نے آج (جمعرات کو) چلنے والی تمام ریل گاڑیاں معطل کردی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سری نگر سے براستہ جنوبی کشمیر جموں خطہ کے بانہال تک کوئی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ اسی طرح سری نگر اور بارہمولہ کے درمیان بھی کوئی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ بتایا کہ ہمیں گذشتہ شام ریاستی پولیس کی طرف سے ایک ایڈوئزری موصول ہوئی جس میں ریل خدمات کو احتیاطی طور پر معطل رکھنے کا مشورہ دیا گیا ۔ انہوں نے بتایا’ ہم نے اس ایڈوائزری پر عمل درآمد کرتے ہوئے ریل خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا۔ ریلوے عہدیدار نے بتایا کہ یہ فیصلہ ریل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں اور ریلوے املاک کو نقصان سے بچانے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ریلوے املاک کو بڑے پیمانے کا نقصان پہنچایا گیا۔ وادی کشمیر میں گذشتہ برس یعنی سال 2017 کے دوران ریل خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بناءپر کم از کم 50 بار جزوی یا کلی طور پر معطل رکھا گیا۔ سال 2016 میں حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل خدمات کو قریب چھ مہینوں تک معطل رکھا گیا تھا۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے چار اضلاع شوپیان، اننت ناگ، پلوامہ اور کولگام اور ضلع سری نگر میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات جمعرات کو مسلسل دوسرے دن بھی منقطع رکھی گئیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال میں بہتری کے ساتھ ہی انٹرنیٹ خدمات کو بحال کیا جائے گا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو سیکورٹی فورسز کی فائرنگ و شلنگ اور احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز کی اپ لوڈنگ کو روکنے کے لئے بند رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مواصلاتی کمپنیوں کو یہ خدمات تاحکم ثانی معطل رکھنے کے لئے کہا گیا ہے۔ دریں اثنا انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وادی کے تمام تعلیمی اداروں میں جمعرات کو درس وتدریس کا عمل معطل رہے گا۔ تعلیمی اداروں کو ظاہری طور پر احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر معطل رکھا گیا ہے۔ یو این آئی
Comments are closed.