پاکستان سے بات چیت ہوگی تو صرف پاکستانی زیر قبضہ کشمیر پر / راجناتھ سنگھ

کرگل وجے دیوس کے موقعہ پر دراس میں ایک منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ اگر مستقبل میں کوئی بات چیت ہوگی تو وہ صرف پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کے موضوع پر ہوگی، کیونکہ یہ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے جس پر پاکستان نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا جواب اسی عزم اور طاقت کے ساتھ دیا جائے گا جس کا مظاہرہ مسلح افواج نے آپریشن سندور کے دوران دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف کیا۔

وزیر دفاع نے پاکستان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں فوج اور دہشت گردوں کے درمیان فرق تقریباً ختم ہو چکا ہے اور دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نہ صرف دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتی ہے بلکہ ان کے ساتھ مل کر کام بھی کرتی ہے، اسی لیے بھارت نے آپریشن سندور کے دوران یہ واضح کر دیا کہ اب دہشت گردوں اور انہیں تحفظ فراہم کرنے والی حکومتوں کو الگ الگ نہیں دیکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کرگل جنگ کو 27 برس گزر چکے ہیں، مگر اس دوران بھارت اور پاکستان کے راستے یکسر مختلف ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق بھارت نئی ٹیکنالوجی، اختراع، سیمی کنڈکٹر، اسٹارٹ اپس، خلائی مشن، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام (یو پی آئی)، ڈیٹا سینٹروں اور عالمی ترقی میں اپنا کردار مضبوط کر رہا ہے، جبکہ پاکستان دراندازی، دہشت گردی، خودکش حملہ آوروں، پراکسی جنگ، شدت پسندی اور حوالہ نیٹ ورکس کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اگر پاکستان نے بھارت کی ترقی کے سفر میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو بھارتی مسلح افواج اس کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

Comments are closed.