میرے برادراکبراتفاق بشیر نائیکو کی دوسری برسی انہیں شاندار خراج
یادوں کے چراغ کبھی نہیں بجھتے
کبھی کبھی زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب وہ ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جاتے ہیں۔ والدین کے بعد اگر کوئی رشتہ انسان کی زندگی میں رہنمائی، شفقت، محبت اور حوصلے کی علامت ہوتا ہے تو وہ بڑے بھائی کا رشتہ ہے۔ بڑا بھائی صرف خون کا رشتہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک ایسا سایہ ہوتا ہے جو زندگی کے ہر مشکل موڑ پر انسان کو سنبھالتا ہے، حوصلہ دیتا ہے اور خاموشی سے اس کی ڈھارس بندھاتا ہے۔
21 جولائی 2026 کو میرے برادر اکبرمرحوم اتفاق بشیر نائیکوکی وفات کو دو برس مکمل ہو گئے ہیں۔ وقت اپنی رفتار سے ا?گے بڑھتا رہا، موسم بدلتے رہے، زندگی اپنی ڈگر پر چلتی رہی، مگر ا?پ کی جدائی کا زخم ا?ج بھی ہرابھرا ہے۔ دو سال گزرنے کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کل ہی ا?پ ہم سے رخصت ہوئے ہوں۔ ا?پ کی ا?واز، ا?پ کی مسکراہٹ، ا?پ کی محبت اور ا?پ کا خلوص ا?ج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک محدود وقت کے لیے دنیا میں بھیجا ہے، مگر کچھ لوگ اپنی مختصر زندگی میں ایسا نقوش چھوڑ جاتے ہیں کہ ان کی یادیں نسلوں تک زندہ رہتی ہیں۔ میرے بھائی بھی انہی خوش نصیب انسانوں میں شامل تھے جنہوں نے دولت یا شہرت سے نہیں بلکہ اپنے حسنِ اخلاق، شرافت اور انسان دوستی سے لوگوں کے دل جیتے۔
میرے بھائی محکمہ پولیس میں تقریباً بیس سال سے زائد تک نہایت ایمانداری، دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ میرے بھائی نے اس پیشے کو صرف ملازمت نہیں سمجھا بلکہ ایک ذمہ داری اور امانت جان کر نبھایا۔
میں نے ہمیشہ انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں سنجیدہ، وقت کا پابند اور اصولوں کا احترام کرنے والا پایا۔ وہ کبھی اپنے عہدے پر فخر نہیں کرتے تھے بلکہ عاجزی کو اپنی پہچان بنائے رکھے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جو بھی ان سے ملتا، ان کے اخلاق کا گرویدہ ہو جاتا۔
لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ میرے بھائی کی سب سے بڑی پہچان کیا تھی تو میرا جواب ہوگا’ان کا کردار‘ وہ شریف النفس، نرم مزاج اور ملنسار انسان تھے۔ ان کی زبان سے کبھی کسی کے لیے تلخ الفاظ نہیں سنے۔ وہ ہر چھوٹے بڑے سے محبت اور احترام سے پیش ا?تے تھے۔ ان کی شخصیت میں غرور نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے تھے اور حتیٰ المقدور ہر ایک کی مدد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
رسول اکرم ? نے فرمایا:
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔ (صحیح بخاری)
بھائی جان! ا?پ صرف میرے بڑے بھائی نہیں تھے، بلکہ میرے بہترین دوست بھی تھے۔ بچپن کی کتنی ہی یادیں ا?ج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔ ا?پ کا ہاتھ پکڑ کر چلنا، میری غلطیوں پر شفقت سے سمجھانا، میرے لیے فکر مند رہنا اور ہر مشکل وقت میں میرا حوصلہ بڑھانا، یہ سب ایسے لمحے ہیں جو کبھی فراموش نہیں ہو سکتے۔
زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے پیاروں کی قدر ان کے ہوتے ہوئے پوری طرح نہیں کر پاتے، لیکن جب وہ ہم سے جدا ہو جاتے ہیں تو ان کی ہر بات، ہر نصیحت اور ہر مسکراہٹ دل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی ہے۔ ا?ج جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو بے اختیار دل کہتا ہے: کاش بھائی جان ا?ج ہوتے، ضرور کوئی بہتر راستہ بتاتے۔
علامہ اقبال? نے کہا تھا:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ہر گھر میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی موجودگی اس گھر کی رونق ہوتی ہے۔ میرے بھائی بھی ہمارے گھر کی ایسی ہی رونق تھے۔ ان کی موجودگی سے گھر میں سکون، محبت اور اپنائیت کا احساس رہتا تھا۔
ا?پ کی وفات 21 جولائی 2024 کو ہوئی۔ وہ دن ہماری زندگی کا شاید سب سے کٹھن دن تھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ہمارے گھر کا ایک مضبوط ستون اچانک گر گیا ہو۔ امی کی ا?نکھوں میں ا?ج بھی ا?پ کی یاد کے ا?نسو ہیں۔ ا?پ کی اہلیہ، ا?پ کی پیاری بیٹی اور ا?پ کا بیٹا اور باقی گھر والے ا?ج بھی ا?پ کی محبت اور شفقت کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ہم سبھی جب بھی کبھی اکٹھے بیٹھتے ہیں تو ا?پ کا ذکر ضرور ا?تا ہے، اور دل خاموشی سے ا?پ کے لیے دعا کرنے لگتا ہے۔
مرزا غالب نے کہا تھا
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ ا?ساں ہو گئیں
لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ رنج ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ کم تو ہو جاتے ہیں، مگر ختم کبھی نہیں ہوتے۔ بھائی کی جدائی بھی انہی غموں میں سے ایک ہے۔میرے بھائی نے ہمیں ایک قیمتی سبق دیا کہ انسان کی اصل عزت اس کے اخلاق میں ہے۔ دولت، عہدہ اور شہرت سب عارضی چیزیں ہیں، لیکن اچھا کردار ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ا?ج جب بھی کوئی ان کا ذکر کرتا ہے تو سب سے پہلے ان کی شرافت، ان کی نرم طبیعت اور ان کے حسنِ سلوک کی تعریف کرتا ہے۔ اس سے بڑی کامیابی کسی انسان کے لیے اور کیا ہو سکتی ہے؟
قرا?نِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے میرے بھائی کی نیکیوں کو قبول فرمائے گا، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے گا اور انہیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔بھائی جان! اگر ا?پ ا?ج ہمارے درمیان ہوتے تو شاید ہم ا?پ کی دوسری برسی نہ منا رہے ہوتے بلکہ ا?پ کے ساتھ بیٹھ کر زندگی کی باتیں کر رہے ہوتے۔ لیکن اللہ کی رضا کے سامنے ہر سر جھک جاتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ دنیا کی یہ جدائی ہمیشہ کی جدائی نہیں۔ اگر اللہ نے چاہا تو جنت میں دوبارہ ملاقات ہوگی، جہاں نہ کوئی غم ہوگا، نہ جدائی، نہ ا?نسو اور نہ ہی فراق۔
ا?ج ا?پ کی دوسری برسی کے موقع پر میں، ا?پ کے چھوٹے بھائی، اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں کہ وہ ا?پ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اس میں نور بھر دے، ا?پ کے درجات بلند فرمائے، ا?پ کی تمام خطاﺅں کو معاف فرمائے اور ا?پ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔میں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری والدہ محترمہ کو صبر و صحت عطا فرمائے، ا?پ کی اہلیہ، بیٹے اور بیٹی اور باقی خاندان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور انہیں ا?پ کے لیے بہترین صدقہ جاریہ بنائے۔ا?مین
ا?خر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ بھائی جان! ا?پ ہم سے دور ضرور ہیں، مگر ہمارے دلوں سے کبھی دور نہیں ہو سکتے۔ ا?پ کی یاد ہمارے لیے ایک قیمتی امانت ہے۔ ہم ہر دعا میں ا?پ کو یاد رکھتے ہیں، ہر قرا?ن خوانی میں ا?پ کے لیے ایصالِ ثواب کرتے ہیں اور ہر خوشی کے موقع پر ا?پ کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ا?پ کی مسکراہٹ، ا?پ کی شفقت، ا?پ کی نصیحتیں اور ا?پ کا خلوص ہمیشہ ہماری زندگی کا سرمایہ رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ ا?پ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، ا?پ کی قبر کو نور سے بھر دے، ا?پ کو جنت الفردوس میں انبیائ ، صدیقین، شہدائ اور صالحین کی رفاقت عطا فرمائے۔
ا?مین یا رب العالمین
ا?پ کا چھوٹا بھائی
رخسار بشیر نائیکو
Comments are closed.