ریاستی درجے کی بحالی میں تاخیر ناقا بل قبول ،مرکز ہمارے صبر کو کمزوری نہ سمجھے/ عمر عبد اللہ

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت سے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے صبر کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ پونے دو سال کے دوران صبر کا راستہ اپنایا، لیکن صبر کمزوری کا نام نہیں۔ صبر کا مطلب خاموش رہنا نہیں، نہ ہی یہ کہ ہم اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لئے آواز بلند نہیں کریں گے

۔ صبر کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کوئی ہمارے تحمل کا ناجائز فائدہ اٹھائے یا ہمیں کمزور سمجھے۔ ہمارا صبر ہماری طاقت ہے، ہماری آواز ہے اور انشاءاللہ یہی صبر ہماری کامیابی کا ذریعہ بنے گا۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ اب مرکز کی حکومت کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ آخر پونے دو سال حکومت بننے کے باوجود ہمیں جنتر منتر پر احتجاج کی بات کیوں کرنی پڑ رہی ہے؟ یقینا کوئی نہ کوئی ایسی مجبوری پیدا ہوئی ہے جس نے ہمیں یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں وہ شخص ہوں جس نے تقریباً پونے دو سال تک اپنی سیاسی ساکھ اور سیاسی مستقبل کو داو¿ پر لگا کر مرکز سے یہی کہا کہ ہم اپنے حقوق لڑائی سے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ سیاسی طور پر یہ فیصلہ ہمارے لئے بھاری ثابت ہوگا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر، خصوصاً کشمیر کے لوگوں کو تب جذباتی تقویت ملتی ہے جب ہم مرکز کے ساتھ محاذ آرائی کرتے ہیں، لیکن میں نے ابتدا میں مرکز کو موقع دیا کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہے۔

Comments are closed.