روزنامہ کہوٹ کو 15برس کی کامیاب اشاعت مکمل کرنے پر مبارک باد /گردھاری لال رینہ

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جموں و کشمیریو ٹی کے ترجمان اور سابق ایم ایل سی گردھاری لال رینا نے کہا ہے کہ کشمیری زبان کا تحفظ اور فروغ محض علامتی اقدامات یا بیانات سے نہیں بلکہ ٹھوس اور مو¿ثر عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری زبان کا تحفظ آئینی، تہذیبی اور قومی ذمہ داری ہے۔

اپنے بیان میں رینہ نے کہا کہ زبان کسی بھی تہذیب کی روح ہوتی ہے، جو تاریخ، ثقافت، اجتماعی یادداشت اور شناخت کو نسل در نسل منتقل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا ادبی، ثقافتی اور روحانی ورثہ کشمیری زبان سے گہرا تعلق رکھتا ہے، اس لیے اس کا تحفظ صرف ایک علاقائی معاملہ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کشمیری زبان کو عالمگیریت، بدلتے سماجی رجحانات، ہجرت، نئی نسل میں زبان کے کم ہوتے استعمال اور ادارہ جاتی سرپرستی کی کمی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر فوری اور مو¿ثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس زوال کو روکنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

گردھاری لال رینا نے کشمیری زبان کو جماعت نہم تک لازمی مضمون بنانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت آغاز ہے، تاہم کشمیری زبان کے فروغ کے لیے جامع پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بے گھر کشمیری ہندو برادری کی لسانی اور ادبی خدمات کو بھی زبان کے تحفظ اور فروغ کی تمام کوششوں میں مناسب مقام دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے روزنامہ کہوٹ کو مسلسل پندرہ برس کی کامیاب اشاعت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ محدود قارئین، مالی مشکلات اور دشوار حالات کے باوجود کشمیری زبان میں روزانہ اخبار کی اشاعت ایک غیرمعمولی کارنامہ ہے، جو زبان کے تحفظ کے لیے قابلِ قدر خدمت ہے۔

رینا نے سوال اٹھایا کہ آئینِ ہند کی آٹھویں فہرست میں شامل کشمیری زبان کے واحد روزنامہ کو اب تک باقاعدہ سرکاری اشتہارات سے کیوں محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومتیں واقعی مقامی زبانوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہیں تو انہیں صرف تقاریر اور تقریبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی اور ادارہ جاتی تعاون بھی فراہم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری اشتہارات صرف مالی مدد کا ذریعہ نہیں بلکہ مقامی زبانوں اور ان کے فروغ کے لیے کام کرنے والے اداروں کی اہمیت کا اعتراف بھی ہوتے ہیں۔

گردھاری لال رینا نے جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا کہ کشمیری زبان کے فروغ کے لیے ایک جامع پالیسی مرتب کی جائے اور روزنامہ کہواٹ کو فوری طور پر سرکاری اشتہارات فراہم کیے جائیں تاکہ پندرہ برس سے کشمیری زبان کی خدمت انجام دینے والا یہ ادارہ اپنی اشاعتی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری زبان کا مستقبل صرف اعلانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے، اور اس کا تحفظ آنے والی نسلوں کے لیے ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Comments are closed.