جعلی زرعی مصنوعات کی فروخت کا معاملہ: کرائم برانچ کشمیر نے دو افراد کےخلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی

جموں و کشمیر کرائم برانچ کے اکنامک آفینسز ونگ کشمیر نے جعلی زرعی مصنوعات کی مبینہ فروخت اور تقسیم کے ایک اہم معاملے میں دو ملزمان کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔ یہ کارروائی ایف آئی آر نمبر33/2018کے تحت انجام دی گئی، جس میں دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور ضروری اشیاءسے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات شامل ہیں۔

حکام کے مطابق ای او ڈبلیو کشمیر نے مذکورہ معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، سوپور کی عدالت میں چارج شیٹ دائر کی ہے۔ چارج شیٹ میں شاہباز احمد بٹ ولد محمد سلطان بٹ ساکنہ گوری پورہ، بومئی، سوپور اور خورشید احمد میر ولد عبد الخالق میر ساکن شادی مارگ، کلام پورہ، راجپورہ، پلوامہ کو نامزد کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق یہ مقدمہ وادی کشمیر میں مبینہ طور پر جعلی ”گلو پوٹاش“ زرعی مصنوعات کی گردش اور فروخت سے متعلق شکایت موصول ہونے کے بعد درج کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان نے مبینہ طور پر مجرمانہ سازش کے تحت نقلی زرعی مصنوعات کی سپلائی اور فروخت میں ملوث ہو کر غیر قانونی مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

ای او ڈبلیو کے مطابق اس مبینہ سرگرمی سے نہ صرف متعلقہ کمپنی کو نقصان پہنچا بلکہ باغبانوں، کسانوں اور ہارٹیکلچر شعبے سے وابستہ افراد کے مفادات بھی متاثر ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے میں استعمال ہونے والی نقلی مصنوعات فصلوں، باغات اور کسانوں کی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہیں، اس لیے ایسے معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

چارج شیٹ بھارتی تعزیراتِ جموں و کشمیر (RPC) کی دفعہ 420 (دھوکہ دہی) اور دفعہ 120-B(مجرمانہ سازش) کے علاوہ ضروری اشیائ ایکٹ کی دفعہ 3/7 کے تحت پیش کی گئی ہے۔ اب معاملے کی مزید سماعت متعلقہ عدالت میں ہوگی، جہاں پیش کردہ شواہد اور دلائل کی بنیاد پر قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔

اس موقع پر اکنامک آفینسز ونگ کشمیر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ معاشی جرائم اور دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کے حوالے سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشتبہ معاملے کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔ حکام نے کہا کہ معاشی جرائم کے متاثرین اپنے شکایات براہِ راست ایس ایس پی، ای او ڈبلیو کشمیر، کرائم برانچ جموں و کشمیر کو ارسال کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ای میل کے ذریعے بھی شکایت درج کرانے کی سہولت دستیاب ہے۔

واضح رہے کہ چارج شیٹ کا عدالت میں پیش کیا جانا تحقیقات کے مکمل ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ ملزمان کے خلاف عائد الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی اور شواہد کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔

Comments are closed.