ماتا بھدرکالی آستھاپن مندر سے سیکورٹی ہٹانے پر گردھاری لال رینہ کا اظہار تشویش

سابق ایم ایل سی، بی جے پی کے ترجمان اور ماتا بھدرکالی آستھاپن ٹرسٹ کے ٹرسٹی گردھاری لال رینہ نے ضلع کپواڑہ کے ہند وارہ کے وڈی پورہ علاقے میں واقع مقدس ماتا بھدرکالی آستھاپن مندر سے سیکورٹی واپس لیے جانے کی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات کو ارسال کردہ خطوط میں مطالبہ کیا ہے کہ مندر اور زائرین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر مناسب سکیورٹی انتظامات کیے جائیں۔

گردھاری لال رینا نے کہا کہ ماتا بھدرکالی آستھاپن ایک قدیم اور نہایت مقدس عبادت گاہ ہے جہاں جموں و کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس مندر کی حفاظت فوج کے زیرِ انتظام تھی، تاہم حال ہی میں سکیورٹی ہٹائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ اس کا کوئی متبادل انتظام نظر نہیں آ رہا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں مندر سے ماتا بھدرکالی کی مقدس مورتی چوری ہو گئی تھی جس کے بعد عوامی سطح پر شدید احتجاج اور ناراضگی دیکھنے میں آئی تھی۔ رینا نے کہا کہ موجودہ مورتی مذہبی رسومات اور پران پرتِشٹھا کے ذریعے نصب کی گئی ہے، لہٰذا اس کو یا مندر کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچنا لاکھوں عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کر سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس حساس مذہبی مقام پر کسی بھی قسم کی سکیورٹی کوتاہی کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔

گردھاری لال رینا نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ سکیورٹی انتظامات کو فوری طور پر بحال یا مزید مو¿ثر بنایا جائے تاکہ مندر کی حرمت، تقدس اور زائرین کی سلامتی ہر حال میں یقینی بنائی جا سکے۔

Comments are closed.