راجستھانی اونٹ قربانی کیلئے کشمیر پہنچتے ہی مقامی مویشی منڈیوں اور لوگوں کی توجہ مبذول
اعجاز ڈار
عید الاضحی قریب آتے ہی سرینگر کے عید گاہ میں قربانی کے جانوروں کی منڈی سج جانے کے ساتھ ہی وہاں لوگوں کی کافی ہلچل دیکھنے کو ملتے ہیں ۔شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف نظر آ رہے ہیں ۔
اسی دوران عیدالاضحیٰ سے قبل راجستھان سے اونٹ قربانی کیلئے کشمیر پہنچ گئے جس سے مقامی مویشی منڈیوں اور لوگوں کی توجہ مبذول ہو گئی ہے۔کشمیر پریس سروس کے مطابق عید قربان کے سلسلے میںجہاں تیاریاں زوروں پر ہے وہیں سرینگر کے عید گاہ علاقے میں قربانی کے جانوروں کی منڈی لگ گئی ہے اور لوگوں کی کافی چہل پہل دیکھنے کو مل رہی ہے ۔
عید گاہ میں درجنوں تاجروں نے قربانی عید سے قبل قربانی کے لیے بکرے اور بھیڑیں پیش کرنے کیلئے عارضی سٹال لگائے ہیں جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد بھی علاقے میں پہنچ کر قربانی کے جانوروں کی خریداری میں مصروف عمل نظر آ رہے ہیں ۔ دن بھر وہاں قربانی کے جانوروں جن میں خاص طو رپر بھیڑ بکریاں شامل ہے کی خر یداری ہو رہی ہے جس سے اس تجارت سے وابستہ افراد بھی کچھ حد تک مطمئن نظر آ رہے ہیں ۔
ادھر عیدالاضحیٰ سے قبل راجستھان سے اونٹ قربانی کیلئے کشمیر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جس سے مقامی مویشی منڈیوں اور لوگوں کی توجہ مبذول ہو گئی ہے۔بڈگام کے ایک شہری نے بتایا کہ اونٹ راجستھان سے لائے گئے ہیں کیونکہ کشمیر میں اونٹوں کی بڑی آبادی اور مویشیوں کی تجارت قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں کچھ خاندان اور گروہ عید الاضحی کے دوران اونٹ کی قربانی کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ اسلامی روایت کے مطابق ایک اونٹ کو متعدد شرکاءمیں بانٹ دیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اونٹ کی قربانی کشمیر میں سات آدمی ایک ساتھ کر سکتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اونٹ کا گوشت پیغمبر آخرزمان ﷺ نے کھایا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کے ہر گھر میں اونٹ کا گوشت پہنچے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ سال ہم کوششیں کریں گے کہ کشمیر کے ہر ضلع میں اونٹ قربانی کیلئے موجود رہیں ۔ ادھر قربانی کے جانوروں کی خریداری کرنے والے افراد نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جانور صحت مند نظر آتے ہیں لیکن قیمتیں بہت زیادہ اور مختلف ہے ۔ حبہ کدل سرینگر کے ایک مقامی شہری نے کہا ” جانور صحت مند نظر آتے ہیں لیکن قیمتیں بہت زیادہ اور مختلف ہیں۔ میں آج قیمتوں کا سروے کر رہا ہوں۔ میں کل یا شاید ایک دن بعد واپس آو¿ں گا اور اپنی پسند کا جانور خریدوں گا۔ “ خاص طور پر، کچھ خریداروں نے بھی واضح شرح کے ضابطے کی کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر بیچنے والا مختلف قیمت کا حوالہ دیتا ہے۔ ایک اور مقامی شہری نے کہا،”کوئی معیار نہیں ہے۔
Comments are closed.