منشیات سے پاک جموںکشمیر : لیفٹنٹ گورنر کی بڈگام میں’ میگا پدیاترا ‘میں شرکت
سری نگر/05مئی
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے آج بڈگام میں منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کے سلسلے میں ایک بڑی عوامی تحریک میں شامل ہوئے اور شہریوں کو یقین دِلایا کہ اِنتظامیہ کا ہر شعبہ اس مسئلے سے نمٹنے اور اس خطرے کو مو¿ثر طریقے سے ختم کرنے کے لئے عزم اور یکجہتی کے ساتھ کام کرے گا۔
اُنہوں نے بڈگام کے ہرکنبے، سماجی تنظیم، روحانی اور سیاسی رہنماو¿ں سے اپیل کی کہ وہ ضلع بھر میں منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کو مزید تیز کریں اور انہیں یقین دِلایا کہ اِنتظامیہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ منشیات کے خاتمے کے لئے پُرعزم ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ہر گاو¿ں اور شہر میں جہاں ممکن ہو ایک غیر رسمی” پیرنٹس بریگیڈ’ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس کا مقصد والدین، خواتین اور نوجوانوں کا ایک رضاکارانہ نیٹ ورک بنانا ہے جنہیں گاﺅں یا وارڈوں میں منشیات کے اِستعمال کی اِبتدائی علامات کی نشاندہی کرنے اور فوری طور پرکنبوںکو وسائل سے جوڑنے کیلئے تربیت اور بااِختیار بنایا جائے گا۔
منوج سِنہا نے کہا کہ ضلع بڈگام کے تمام لوگوں کو منشیات کے اس زہر کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہیے جو ہمارے نوجوانوں کو تباہ کر رہا ہے۔
اُنہوں نے کہا،”میرا یقین ہے کہ نشے کی لت کا شکار ہر نوجوان ہمارے مستقبل کی اَفرادی قوت کی طاقت میں کمی اور ہماری پولیس و فوج کے لئے ایک سپاہی کا نقصان ہے۔ نشے کی وجہ سے ٹوٹنے والا ہر کنبہ ہمارے معاشرے کی بنیاد میں دراڑ ہے۔“
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ منشیات کے خلاف اس جنگ میں معاشرے کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگاکہ بہت سے لڑکے اور لڑکیاں نشہ آور اشیائ¿ کی گرفت میں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کیوں کہ وہ ہمارے اَپنے بچے ہیں۔ وہ مجرم نہیں بلکہ متاثرین ہیں اور انہیں ہماری محبت، ہمدردی اور نگہداشت کی ضرورت ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا، ”عوام کو اِس بدنامی کا خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ اگر کوئی کنبہ اس مسئلے سے دوچار ہو تو وہ خاموشی میں تکلیف نہ سہے۔ یہ روایت بدلنی ہوگی کیوں کہ موجودہ حالات میں خاموشی سے اس مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکتا،عوام کو اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔“
منوج سِنہا نے مزید کہا کہ منشیات کی لت صرف ایک صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی کا بحران بھی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں داخل ہونے والی منشیات نہ صرف نوجوانوں کے خوابوں کو کھوکھلا کرتی ہیں اور ان کے خوداعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ منشیات کی کاروباری دہشت گردی اور انتہاپسندی کو بھی فنڈ فراہم کر رہی ہے
Comments are closed.