ارہامہ گاندربل جھڑپ : لیفٹنٹ گورنر نے مجسٹریٹ جانچ کا حکم دیا

لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے گاندربل ضلع میں ہونے والی جھڑپ کی مجسٹریل جانچ کا حکم دیا جس میں ایک مبینہ دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔
خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی سمیت کئی مرکزی دھارے کے لیڈروں نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات ہونے والے انکاو¿نٹر پر سوالات اٹھائے تھے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں منوج سنہا نے لکھا ” میں نے آرہامہ گاندربل واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا ہے۔ انکوائری میں واقعے سے متعلق تمام پہلوو¿ں کی جانچ کی جائے گی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا“۔
جھڑپ میں مارے گئے نوجوان رشید احمد مغل کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ مقتول کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ خاندان کے دعوے کو ہاتھ سے نہیں نکالا جانا چاہیے۔ کم از کم اس انکاو¿نٹر کی شفاف اور وقتی جانچ کی ضرورت ہے جس میں حقائق کو عام کیا جائے۔

جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے گاندربل کے ضلع مجسٹریٹ سے سات دنوں کے اندر انکوائری کرانے کو کہا ہے۔

محکمہ داخلہ نے گاندربل ضلع مجسٹریٹ کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں لکھا ” براہ کرم یکم اپریل 2026
کو آرہامہ گاندربل میں ہونے والے جھڑپ کا حوالہ دیں جس کے نتیجے میں رشید احمد مغل ولد مرحوم گل زمان مغل ساکنہ چھونٹھ والی وار لار گاندربل کی موت ہو گئی تھی“۔
محکمہ داخلہ نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کی گئی ہے اور اس کے مطابق ”آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ مجسٹریل انکوائری کرائی جائے تاکہ رشید احمد مغل کی موت کے حقائق اور حالات کا پتہ لگایا جا سکے۔“
مواصلت میں مزید کہا گیا کہ انکوائری سات دن کی مدت میں مکمل کی جا سکتی ہے اور رپورٹ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو پیش کی جا سکتی ہے۔

Comments are closed.