وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے پہلی جموں میراتھن کو ہری جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا
جموں/29مارچ
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج یہاں مولانا آزاد سٹیڈیم سے جموں میراتھن کو جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا اور 21.1 کلومیٹر کی ہاف میراتھن بھی مکمل کیا۔اِس طرح فٹنس اور صحت مند طرزِ زِندگی کے فروغ میں عملی قیادت کا مظاہرہ کیا۔
بارش کے باوجود سینکڑوں شرکا¿جن میں وزیر برائے اَمورِ نوجوان و کھیل کودستیش شرما، اراکین اسمبلی، چیف سیکرٹری، فِٹنس آئیکون ملند سومن اور اداکارہ گُل پناگ شامل تھے، نے اِس دوڑ میں حصہ لیا جس نے اس ایونٹ کو خطے میں منشیات کے استعمال کے خلاف اتحاد اور ایک مضبوط پیغام میں تبدیل کر دیا۔
وزیر اعلیٰ نے تقریب کے آغاز میں نہ صرف میراتھن کو جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا بلکہ خود بھی شرکا¿کے ساتھ دوڑ میں حصہ لیا، ہاف میراتھن مکمل کی اور نوجوانوں سمیت تمام شہریوں کو متاثر کیا۔ اُنہوں نے زِندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے اَفراد پر زور دیا کہ وہ صحت مند اور فعال طرزِ زندگی اپنائیںکیوں کہ جسمانی فِٹنس مجموعی فلاح و بہبود اور سماجی ترقی کے لئے لازمی ہے۔
اُنہوں نے ’ ٹیمپلز ٹوٹریلز‘ کے موضوع کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ میراتھن جموں کو فٹنس ٹوراِزم اور ثقافتی ہب کے طورپر اُبھارنے کی جانب ایک قدم ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ دوڈ کا یہ راستہ جو نمایاں بازاروں، تاریخی مقامات اور شہر کے مشہور مقامات سے گزرتا ہے، جموں کی روحانیت، تاریخ اور قدرتی خوبصورتی کے منفرد امتزاج کو ظاہر کرتا ہے۔
میراتھن کا آغاز طلوعِ آفتاب سے 22 منٹ قبل مولانا آزاد سٹیڈیم سے ہوا اور اس کا اہتمام محکمہ سیاحت نے کیاجس میں جموںوکشمیر بینک ٹائٹل سپانسر تھا۔ اِس ایونٹ میں تین اقسام کی دوڑیں ہاف میراتھن (21 کلومیٹر)، 10 کلومیٹر فٹنس رن اور 5 کلومیٹر فن رن شامل تھیںاور اس کا کل انعاماتی رقم 1.33 کروڑ روپے ہے۔ اِس پہلے ایڈیشن میں زائد اَز 4,000 رنروں نے حصہ لیا جن میں 1,000 سے زیادہ جموں و کشمیر سے باہر کے اور 90 سے زائد بین الاقوامی ایتھلیٹس شامل تھے۔
نامساعد موسمی حالات کے باوجود شرکا¿کا جوش و خروش برقرار رہا، جو جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی فٹنس کلچر اور کمیونٹی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے شرکا¿ نے بارش میں بھی دوڑ لگا کر عزم اور اجتماعی جذبے کا مظاہرہ کیا۔
اداکارہ گُل پناگ نے رنروںاور منتظمین کے جوش وجذبے کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اِفتتاحی ایڈیشن میں اتنی بڑی تعداد میں شرکت بالخصوص خراب موسم کے باوجوایک بڑی کامیابی ہے ۔
Comments are closed.