جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا دور ختم، اس کے حامیوں کیلئے کوئی محفوظ جگہ نہیں/منوج سنہا

لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کنونشن سنٹر جموں میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے 37 رشتہ داروں کو تقرری نامہ حوالے کیا۔اس موقعہ پر دہشت گردی کے متاثرین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر نے دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام اور دہشت گردوں کے حامیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا عزم کیا۔

انہوںنے کہا ”میں دہشت گردی کے متاثرین کے خاندانوں سے عہد کرتا ہوں کہ ہم ان کی باوقار اور باعزت زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے پوری عزم کے ساتھ کام کریں گے۔ ہم ان کے لیے ہر فرض کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں گے، اور ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہر خاندان کو انصاف نہیں مل جاتا۔ “ لیفٹنٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ دہشت گردی کے شکار خاندانوں کو انصاف صرف سزاو¿ں تک محدود نہیں ہے بلکہ زخموں پر مرہم اور وقار کی بحالی بھی ہے۔

انہوں نے کہا ” انصاف بھی ان کہانیوں میں مضمر ہے جن کو معاشرہ یاد کرنے کا انتخاب کرتا ہے۔ انصاف کا مطلب غم زدہ خاندانوں کے آنسو پونچھنا، ان کے درد کو تسلیم کرنا، اور ان کی روحوں پر لگے زخموں کو مندمل کرنا بھی ہے۔ انصاف کا مطلب یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے شکار خاندانوں کی کہانیاں جو کبھی بھول جاتی تھیں، اب نئے سرے سے یادداشت اور اعزاز کے ساتھ لکھی جا رہی ہیں“۔انہوں نے کہا ” ہم آج جموں و کشمیر میں ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے نوجوان اور دہشت گردی کے شکار خاندان ایک روشن مستقبل کی خواہش رکھتے ہیں اور ایک بہتر زندگی گزارنے کے خواہشمند ہیں۔ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس مستقبل کو حقیقت بنائیں اور وہ مواقع پیدا کریں جس کے وہ مستحق ہیں۔ “

لیفٹنٹ گورنر نے دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کے باقی ماندہ عناصر اور تنازعات کے کاروبار کرنے والوں کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دہشت گردی کا دور ختم ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا ”جموں کشمیر کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایسے دہشت گرد عناصر کو کس نے ڈھال بنایا، لیکن وہ ڈھال اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ میں انہیں خبردار کرتا ہوں کہ جموں کشمیر میں دہشت گردوں یا ان کی حمایت کرنے والے نیٹ ورکس کے لیے اب کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے“۔لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ ان کا عزم ہے کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے ہر خاندان کو انصاف، نوکریاں، پہچان اور مدد ملے جو وہ برسوں کی تکالیف کے بعد مستحق ہیں۔

Comments are closed.