سرینگر کا باغِ گلِ لالہ 16 مارچ کو کھلے گا، اٹھارہ لاکھ پھولوں سے وادی مہکنے کو تیار

ایشیا کا سب سے بڑا باغِ گلِ لالہ اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن اس سال 16 مارچ کو سیاحوں کے لیے باضابطہ طور پر کھول دیا جائے گا۔

محکمہ باغبانی کشمیرکے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ موسم سازگار رہا ہے اور اس سال پھول معمول سے پہلے ہی کھل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باغ اس وقت اپنی پوری شان کے ساتھ تیار ہے اور سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہر انتظام مکمل کر لیا گیا ہے۔

باغ زبرون پہاڑی سلسلہ کے دامن میں واقع ہے اور سامنے سے ڈل جھیل کا شاندار نظارہ پیش کرتا ہے۔ اس حسین امتزاج کی وجہ سے یہ باغ ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور سری نگر کی سیاحت کو نئی جان بخشتا ہے۔حکام کے مطابق اس بار تقریباً اٹھارہ لاکھ گلِ لالہ کے پودے لگائے گئے ہیں، جن میں ستر سے پچھتر اقسام شامل ہیں۔ پھولوں کی کیاریوں کی گھناوٹ بھی بڑھائی گئی ہے تاکہ آنے والے سیاحوں کو زیادہ دلکش اور رنگا رنگ نظارہ دیکھنے کو ملے۔ ہر لائن میں رنگوں کی ترتیب، پھولوں کی اونچائی، اور قطاروں کا ڈیزائن اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ باغ میں داخل ہوتے ہی ہر قدم پر منظر بدلتا محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا:’اس سال ہم نے پھولوں کی کیاریوں کو پہلے سے زیادہ دلکش اور بھرپور انداز میں تیار کیا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ سیاح جب بھی باغ میں داخل ہوں، انہیں رنگوں کا ایک ایسا سمندر نظر آئے جس سے وہ دیر تک مسحور رہیں۔‘باغ کے کھلنے کی خبر نے وادی کے شہریوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ سری نگر کے رہائشی محمد طارق نے کہا:’ٹیولپ گارڈن صرف ایک باغ نہیں، یہ کشمیر کی بہار کا اعلان ہے۔ ہم ہر سال اپنے بچوں کے ساتھ یہاں آتے ہیں۔ اس بار بھی بےچینی سے انتظار ہے۔‘ایک اور شہری، نادیہ جاوید، نے مسکراتے ہوئے کہا:’یہ باغ ہمارے لئے ایک تہوار جیسا ہے۔

جب یہ کھلتا ہے تو لگتا ہے جیسے کشمیر دوبارہ سانس لے رہا ہے۔ ہم ہر سال نئے رنگ دیکھتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ دنیا میں ایسا مقام اور کہیں ہوگا بھی یا نہیں‘۔سیاحتی کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق باغ کے کھلنے کے ساتھ ہی وادی کے ہوٹل، ٹیکسی سروسز اور مقامی بازاروں میں بھی رونق بڑھ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی باغ کی صفائی، سکیورٹی، ٹکٹ کاو¿نٹروں، پارکنگ، روشنی اور سیاحوں کی رہنمائی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ محکمے کے مطابق توقع ہے کہ اس سال سیاحوں کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگی۔کشمیر کی بہار کی پہچان بن چکا یہ باغ 16 مارچ سے ایک بار پھر دنیا کو اپنے رنگوں کے جادو میں جکڑنے جا رہا ہے، اور وادی کے لوگ پ±رامید ہیں کہ یہ موسم اس سال بھی کشمیر کی خوبصورتی کا پیغام دنیا بھر تک پہنچائے گا۔

Comments are closed.