کشمیر میں طویل سرمائی چھٹیوں کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

سری نگر، 9 مارچ

وادی کشمیر میں پیر کی صبح طویل سرمائی چھٹیوں کے بعد پہلی سے آٹھویں جماعتوں تک کے لئے بھی اسکول دوبارہ کھل گئے۔

وادی میں سرمائی تعطیلات کے بعد 9 ویں سے 12 جماعتوں تک اسکول 23 فروری کو ہی دوبارہ کھل گئے تھے۔ پہلی سے آٹھویں جماعتوں کے لئے گرچہ یکم مارچ سے اسکول کھلنے کا شیڈول تھا تاہم ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ہونے والے احتجاج کے پیش نظر حکام نے کشمیر بھر میں تمام تعلیمی اداروں کو بنا بر احتیاط بند رکھنے کا حکم دیا تھا۔

وادی میں صورتحال بہتر ہونے کے پیش نظر حکام نے پیر سے اسکول دوبارہ کھلنے کا اعلان کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق وادی بھر میں پیر کی صبح تمام تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے جس کے ساتھ ہی کم عمر طلبا کے لئے 3 ماہ سے زیادہ سرمائی تعطیلات کے بعد تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوئیں۔

وادی کے شہر و دیہات میں طلبا کو صاف و شفاف وردیوں میں ملبوس اسکول گاڑیوں میں اور پیدل چلتے ہوئے بھی اپنے اپنے اسکولوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا جس سے ماحول میں ایک خوش کن کیفیت پیدا ہوئی۔

وادی کے تمام اسکول پیر کی صبح طلبا کی ‘مارننگ پرائر’ سے گونج اٹھے جس سے گرد و پیش کی فضا مین شادمانی کا ماحول چھا گیا۔
حکام نے بتایا کہ اسکولوں دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ اساتذہ نے طویل بندش کے بعد باقاعدہ کلاسیں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کی ہے۔

بچوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی خوش نظر آ رہے تھے جو اپنے اپنے اسکولوں میں بچوں کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔
زاہد حسین نامی ایک استاد نے یو این آئی کو بتایا: ‘جس طرح ایک گلستان کی شان اس کے پھول ہوتے ہیں اسی طرح ایک اسکول کی شان اس میں زیر تعلیم بچے ہوتے ہیں ان کی غیر موجودگی میں اس کی صورت بھی ایک مرجھائے ہوئے گلستان کی سی ہوتی ہے’۔

انہوں نے کہا: ‘اسکولوں میں بچوں کے چہچہانے سے اس گلستان میں تر وتازگی آجاتی ہے اور ہر سو خوشی و شادمانی کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے’۔

سری نگر کے ایک اسکول کی ایک طالبہ نے کہا: ‘مجھے گھر میں اپنے دوستوں کی یاد بہت ستاتی تھی، آج ان سے ملاقات ہوگی جس کے لئے میں بہت خوش ہوں’۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے چھٹیوں کے دوران گھر میں پڑھائی بھی کی اور موج مستی بھی کی لیکن جو مزہ اسکول میں آتا ہے وہ گھر میں نہیں آتا ہے’۔
ایک استانی نے بتایا: ‘ہم بچوں کے منتظر تھے، ان کے استقبال کے لئے بھی ہم تیاریاں کی ہیں’۔

Comments are closed.