وادی میں خوبانی، آڑو اور آلو بخارا کے شگوفے قبل از وقت نمودار، ماہرین اور کسان تشویش میں مبتلا
سری نگر،8 مارچ
وادی کشمیر میں بادام کے درختوں کے بعد اب خوبانی، آڑو اور آلو بخارا کے درختوں پر بھی شگوفے معمول سے پہلے ہی نمودار ہونے لگے ہیں جس سے ماہرین اور کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی غیر معمولی صورتحال اور درجہ حرارت میں اتار چڑھاو کے باعث اس سال میوہ باغات میں شگوفے قبل از وقت پھوٹ پڑے ہیں۔
کسانوں کے مطابق عام طور پر ان درختوں پر شگوفے مارچ کے ا?خر پر ظاہر ہوتے ہیں، تاہم اس سال موسم نسبتاً گرم رہنے کی وجہ سے یہ عمل پہلے ہی شروع ہو گیا ہے۔ وادی کے مختلف علاقوں میں باغات میں شگوفے کھلنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے جس نے باغبانوں کو فکرمند کر دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں موسم اچانک خراب ہو جاتا ہے یا درجہ حرارت میں نمایاں کمی آتی ہے تو اس کا براہ راست اثر ان شگوفوں پر پڑ سکتا ہے۔
شگوفوں کے متاثر ہونے کی صورت میں پھل کی پیداوار کم ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ماہر موسمیات کے مطابق آئندہ چند دنوں کے دوران وادی میں موسم کی صورتحال خراب رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس دوران بارش یا پہاڑی علاقوں میں ہلکی برف باری بھی ہو سکتی ہے جس سے درجہ حرارت میں کمی آنے کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر درجہ حرارت میں اچانک گراوٹ ریکارڈ کی جاتی ہے تو اس سے میوہ باغات کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ شگوفوں کی ابتدائی حالت میں درخت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ اس مرحلے پر سردی یا ٹھنڈی ہوائیں شگوفوں کو متاثر کر سکتی ہیں جس کے نتیجے میں پھل بننے کا عمل متاثر ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ میوہ باغات وادی کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہیں اور ہزاروں خاندان اپنی روزی روٹی کے لیے باغبانی پر انحصار کرتے ہیں۔
ایسے میں اگر شگوفوں کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف باغبانوں بلکہ مقامی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔باغبانوں نے متعلقہ محکموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال پر نظر رکھیں اور کسانوں کو مناسب رہنمائی فراہم کریں تاکہ ممکنہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ماہرین کے مطابق موسم کی غیر متوقع تبدیلیاں گزشتہ چند برسوں کے دوران زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہیں جس کے باعث باغبانی کے شعبے کو مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسانوں کو چاہیے کہ وہ موسمی پیش گوئی پر نظر رکھیں اور باغات کی حفاظت کے لیے احتیاطی اقدامات کریں۔ادھر کسانوں اور ماہرین دونوں کا کہنا ہے کہ اگر موسم سازگار رہا اور درجہ حرارت میں شدید کمی نہیں آئی تو شگوفے محفوظ رہ سکتے ہیں اور میوہ باغات کو کسی بڑے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ تاہم آنے والے چند دن اس حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
دریں اثنا ماہر موسمیات فیضان عارف نے یو این آئی کو بتایا کہ وادی میں اس سال موسمی صورتحال غیر معمولی رہی ہے جس کے باعث میوہ باغات میں شگوفے قبل از وقت نمودار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اب موسم میں تبدیلی متوقع ہے اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ شگوفوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر معمولی برف باری ہوتی ہے تو شگوفے درختوں سے گرنے کا خدشہ رہتا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ دنوں میں تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے اور ایسی صورت میں بھی میوہ باغات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
Comments are closed.