ایس ایس اے فنڈس کے مبینہ خرد برد کے معاملے میں چارج شیٹ داخل: کرائم برانچ کشمیر

کرائم برانچ جموں وکشمیر کی اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے سر وا شکشا ابھیان (ایس ایس اے) اسکیم کے تحت منظور شدہ سرکاری فنڈز میں مبینہ خرد برد کے معاملے میں 7 ملزموں کے خلاف ایف آئی آر نمبر43/2018 میں خصوصی عدالت انسداد بدعنوانی جج بارہمولہ کے سامنے چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔

ونگ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف یہ چارج شیٹ رنبیر پینل کوڈ (آر پی سی) کی دفعات 420 اور 120 – بی کے ساتھ جموں و کشمیر انسداد بد عنوانی ایکٹ کی دفعہ 5(2) کے تحت دائر کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ ایک تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ سروا شکشا ابھیان (ایس ایس بی) اسکیم کے تحت ہمپورہ کرال گنڈ گائوں میں ایک اسکول عمارت کی تعمیر کے لئے منظور شدہ سرکاری فنڈز میں خرد برد کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسکول عمارت کے ساتھ باورچی خانہ، بیت الخلا اور ریمپ کی تعمیر بھی منظور کی گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گرچہ اس وقت کے زونل ایجوکیشن افسر (زیڈ ای او) لنگیٹ کی جانب سے مختلف چیکس کے ذریعے تقریباً 5 لاکھ 73 ہزار 5 سو 92 روپیے جاری کئے گئے تھے، جس میں سے زیادہ تر رقم پرائمری اسکول ہمپورہ کے فرسٹ ٹیچر کے ذریعے منتقل کی گئی تاہم منظور شدہ کام قواعد و ضوابط کے مطابق انجام نہیں دئے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ زمینی حقیقت یہ پائی گئی کہ صرف اسکول عمارت کا ڈھانچہ موجود ہے جبکہ باورچی خانہ، بیت الخلا اور ریمپ تعمیر نہیں کئے گئے حالانکہ ان کے لئے فنڈز جاری کئے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مزید تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا کہ متعلقہ سرکاری اہلکاروں نے ٹھیکیدار کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے ایک منظم مجرمانہ سازش کے تحت ایس ایس اے کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹھیکہ الاٹ کیا جبکہ تعمیراتی کام دیہی تعلیمی کمیٹی (وی ای سی) کے ارکان کے ذریعے انجام دیا جانا تھا۔ اس کے علاوہ اس منصوبے کا سائٹ پلان بھی اپنے فائدے کے لئے تبدیل کر دیا گیا اور منظور شدہ تین کمروں پر مشتمل اسکول عمارت کے ساتھ علاحدہ باورچی خانہ، بیت الخلا اور ریمپ کے بجائے ایک دومنزلہ عمارت جس میں چار کمرے ہیں، تعمیر کی گئی۔

موصوف ترجمان نے بتایا کہ مزید یہ کہ عمارت کا ڈھانچہ مکمل ہونے کے باوجود ٹھیکدار نے اس کو محکمہ تعلیم کے حوالے نہیں کیا جبکہ متعلقہ اہلکاروں نے دانستہ طور پر اس کا قبضہ لینے سے گریز کیا جس کے باعث ایک اور ملزم نے اس عمارت پر غیر قانونی قبضہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران جمع کئے گئے شواہد کی بنیاد پر ملزموں کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت جرائم ثابت پائے گئے ہیں جس کے بعد مقدمہ عدالتی فیصلے کے لئے مجاز عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

Comments are closed.